سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ، وفاقی حکومت سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع نہیں کراسکی -
The news is by your side.

Advertisement

سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ، وفاقی حکومت سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع نہیں کراسکی

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں سی این جی قیمتوں میں حالیہ اضافےکے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال جواب داخل نہیں کرایا جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف سندھ پیٹرولیم اینڈسی این جی ایسوسی ایشن ودیگر نےدرخواست دائررکھی ہے، سماعت میں سوئی سدرن گیس کمپنی اوراوگرانےجوابات جمع کرا دیے۔

مذکورہ مقدمے میں وفاقی حکومت کی جانب سےتاحال جواب داخل نہ کرایاجا سکا، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں وفاقی حکومت جواب جمع کرادےگی۔ اس پر عدالت کاوفاقی حکومت کو 9 نومبرتک جواب داخل کرانےکاحکم دے دیا۔

اوگرا نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ گیس نرخ عالمی مارکیٹ کومدنظررکھ کر ڈالر کی قیمت میں اضافے کے سبب بڑھائےگئے اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔

اس موقع پر اسٹیشن مالکان کے وکیل بیرسٹر محسن شہوانی کا کہنا تھا کہ سی این جی کےپیٹرول سےزائدنرخ کاعام آدمی کیسےبوجھ اٹھائےگا؟۔پہلی بارپیٹرول سستااورسی این جی مہنگی کردی گئی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ پیٹرول درآمد کیا جاتا ہے جبکہ گیس توسندھ خودپیداکرتاہے، سی این جی نرخ بڑھانےسےمتعلق اوگراکانوٹیفکیشن غیرقانونی ہے۔

ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے مطابق اوگرانےسوئی سدرن گیس کی قیمت17فیصدبڑھانےکی سفارش کی، اوگرانےسوئی ناردرن گیس کی نرخ30فیصدبڑھانےکی سفارش کی تھی تاہم حکومت نےاوگرا سفارش کےبرخلاف40فیصدیکساں نرخ بڑھادیے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کےنرخ یکساں بڑھاناخلاف قانون ہے کیونکہ دونوں کے خسارے میں فرق ہے۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ اوگراقیمت طےکرنےسےمتعلق آزادادارہ ہے،حکومت اوگراکےطےکردہ نرخ بڑھانےیاکم کرنےکی مجازنہیں۔ سی این جی کی قیمتیں پیٹرول سےتجاوزکرنےپرسی این جی سیکٹرتباہ ہوجائےگا ،لہذا ان قیمتوں پر فی الفور نظرِ ثانی کی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں