The news is by your side.

Advertisement

سندھ بلدیاتی الیکشن، سندھ ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا

کراچی: صوبے میں بلدیاتی الیکشن کے التوا سے متعلق سندھ ہائی کورٹ نے اہم ترین فیصلہ سنادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں بلدیاتی الیکشن کے التوا سے متعلق دائر تمام درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے شیڈول کے مطابق الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

فیصلے سے قبل جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے صوبے کے ترقیاتی اداروں کو مقامی حکومتوں کےتابع کرنےکا حکم دیاتھا اور قانون سازی کے بعد انتخابات کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس پر جسٹس جنیدغفار نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے تو حکم دیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کرائےجائیں، وکیل جماعت اسلامی نے جواب دیا کہ اس طرح انتخابات کرائےگئےتو بلدیاتی حکومت کمزور ترین تصور کی جائےگی۔

کمرہ عدالت میں موجود وکیل الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے پر ایک سو بیس روز میں بلدیاتی انتخابات ہونا تھے، جسٹس جنیدغفار نے استفسار کیا تو پھر آپ نے ایک سو بیس روز میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مردم شماری اور حلقہ بندی کی وجہ سےانتخابات میں تاخیر ہوئی۔

حکومت نے دو ہزار سترہ کی مردم شماری کی منظوری دی تو انتخابی مرحلہ شروع ہوا، بلوچستان اورخیبرپختونخوامیں بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں۔

ایم کیو ایم وکیل کے دلائل

اس سے قبل ایم کیوایم کے وکیل ڈاکٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا جواب ٹھوس بنیادوں پر مشتمل نہیں، یہ جواب رسمی طورپرجمع کرایا گیا ہے، ابھی تک انتخابی فہرستیں مکمل نہیں لیکن الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نوازشریف کیس میں بھی قراردیا گیا تھا قانونی تقاضے پورے کیےبغیرانتخابات نہیں کرائے جاسکتے، سندھ ہائی کورٹ نے قراردیا تھا کہ حلقہ بندی کی آزاد باڈی ہونی چاہئے۔ اس طرح انتخابات کرائے گئے تو ہر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا۔

وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ ان کے حکومت ہوگی تو وہ اپنی مرضی سے حلقہ کریں گے۔ ہماری حکومت آئے تو ہم اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں کریں گے۔ حلقہ بندیاں کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ ہرکوئی ان انتخابات کو چیلنج کرے گا۔

ایم کیوایم کے وکیل نے حلقہ بندیوں سے متعلق سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کرتے ہوئے دلائل میں کہا کہ سندھ حکومت نے خود سے حلقہ بندیاں کردیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے ہونے والی حلقہ بندیوں میں تضاد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں