اتوار, مئی 19, 2024
اشتہار

وزیراعظم شہباز شریف کا اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے الیکشن فنڈز بل کثرت رائے سے مسترد ہونے کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف 27 اپریل کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے، اس متعلق انہوں نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف و دیگر رہنماؤں سے مشاورت کر لی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے تمام ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت دے دی۔

- Advertisement -

وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ الیکشن فنڈز بل مسترد ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کچھ روز قبل قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابی اخراجات کے لیے 21 ارب روپے فراہم کرنے کی ڈیمانڈ کثرت رائے سے مسترد کی تھی۔

حکومتی بل کثرت رائے سے مسترد ہونے پر وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑتا ہے۔ اس کے لیے وزیراعظم کو قومی اسمبلی کی کُل تعداد کے نصف ممبران یعنی کم از کم 172 ارکان کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا ورنہ وہ اسمبلی سے اپنا اعتماد کھو دیں گے۔

سال 2021 میں سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ووٹنگ میں قومی اسمبلی کے 178 ارکان نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ کا اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں معاشی صورتحال، دوست ممالک سے مالی یقین دہانیوں اور آئی ایم ایف سے رابطوں کے معاملات کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے امور پر غور کیا جائے گا جبکہ سیاسی جماعتوں سے مشاورتی عمل کے حوالے سے بھی امور زیر غور آئیں گے۔

Comments

اہم ترین

مزید خبریں