The news is by your side.

Advertisement

بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لیتے ہیں، شہزاد رائے

کراچی: زندگی ٹرسٹ کے سربراہ گلوکار شہزاد رائے کا کہنا ہے کہ بچوں پر جسمانی تشدد کے خلاف کیس میں عدالت نے ہمارے موقف کو سراہا ہے، بچوں پر جسمانی تشدد اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف گلوکار شہزاد رائے نے ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں پر جسمانی تشدد کا بل اسمبلی میں جانا بڑی کامیابی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کے شکر گزار ہیں۔

شہزاد رائے کہا کہ جسمانی سزا ہماری ذہنیت ہے، بچوں پر مار پیٹ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، ہم نے عالمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لیتے ہیں کہ اچھی نیت سے مارا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکشن 89 کہتی ہے بچوں کا سرپرست اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دے سکتا ہے،و الدین یا بچوں کے سرپرست کو بھی کیسے حق ہے کہ وہ تشدد کی اجازت دیں۔

مزید پڑھیں: جسمانی تشدد سےاگر بچے کو نقصان ہوتا ہے تو وہ جرم ہے ، چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

شہزاد رائے نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے بچوں پر تشدد کے معاملے پر بہت ساتھ دیا ان کے شکر گزار ہیں۔

واضح رہے کہ کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جسمانی تشدد سے اگر بچے کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ جرم ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا عدالت نےوفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری کوطلب نہیں کیا ، ڈاکٹر شیریں مزاری کا طلب کیے بغیر عدالت آنا خوش آئند ہے، قرآن پاک میں بچوں کےحقوق کے بارے میں احکامات موجودہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں