The news is by your side.

Advertisement

شنگھائی پاور نے کراچی الیکٹرک کے اکثر شیئرز خرید لیے

کراچی: متحدہ عرب امارات کی کمپنی ابراج گروپ نے کراچی الیکٹرک کے اکثر حصص چین کی کمپنی شنگھائی پاور کو فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا معاہدہ بھی حتمی مراحل میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2009 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپورشن کے حصص خریدنے والے متحدہ عرب امارات کے گروپ ابراج نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے اکثر حصص چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک پاور کو دینے کا معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی کمپنی ابراج گروپ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی الیکٹرک کے 66.4 فیصد شیئرزکو چینی الیکٹرک کمپنی کو فروخت کیا جائے گا۔ جس کی  قیمت  1 ارب 77 کروڑ ڈالر بنتی ہے جس کی ادائیگی کے لیے معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔

ابراج گروپ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے حصص کی فروخت حتمی مراحل میں ہے اس سلسلے میں گروپ نے پاکستان میں نجی شعبے سے لین دین کا عمل شروع کردیا ہے، معاہدے کی تکمیل اور شیئرز کی فروخت کے بعد پاکستان کی تاریخ میں نجی شعبے کا سب سے بڑا لین دین ہونے جارہا ہے۔

اس ضمن میں شنگھائی الیکٹرک پاور کے چیئرمین وانگ یوندان کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ 7 سالوں میں کے الیکٹرک نے ابراج گروپ کے ساتھ بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں جس پر دونوں کمپنیاں خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی الیکٹرک کے الیکٹرک انتظامیہ کی کارکردگی اور صلاحیتوں کی معترف ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شنگھائی الیکٹرک پاور پاکستان کے لوگوں اور حکومت کو بہتر سروس فراہم کر کے اُن کی خدمت کرنا چاہتی ہے اس کے لیے ہم نے اپنے سرمایہ کاروں اور کے الیکٹرک کے اشتراک سے حکمت عملی تشکیل دی ہے، جس کے تحت کےالیکٹرک کی صلاحیت مزید بہتر ہوگی اور ہم اسے پاکستان کی بہترین کمپنیوں میں سے ایک بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

پڑھیں:  شنگھائی الیکٹرک کا کے الیکٹرک خریدنے میں اظہار دلچسپی

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کراچی شہر میں بجلی کے صارفین کی تعداد 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے۔ سب سے پہلے بجلی کی ترسیل کے لیے 1913 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا قیام وجود میں آیا۔ جو شہر میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور اس کی پیداوار کے علاوہ تقسیم کی ذمہ دار تھی۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 2005 میں نجی شعبے میں تبدیل کردیا گیا تھا اور چار سال بعد دبئی کے ایک گروپ نے اس کے حصص خرید لیے تھے جس کے بعد 2009 سے یہ کمپنی ابراج گروپ کے ماتحت ہوگئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں