The news is by your side.

Advertisement

ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ پروین رحمان قتل کیس میں اہم پیش رفت

کراچی : انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ پروین رحمان قتل کیس میں ترمیمی فرد جرم عائد کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ پروین رحمان قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، انسداد دہشت گردی عدالت نے ترمیمی فرد جرم عائد کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ مقدمہ اختتامی مراحل میں ہے تمام تر کارروائی مکمل ہوچکی ہے

عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 30نومبر تک ملتوی کردی، استغاثہ نے مقدمے میں جرم کی سازش کرنے کی دفعہ کے تحت درخواست کی تھی۔

یاد رہے رواں ماہ ہی سندھ ہائی کورٹ نے پروین رحمان قتل کیس دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا تھا ، عدالت میں لیگل برانچ کی جانب سے ڈی ایس پی خالد خان نے گواہوں کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ پروین رحمان قتل کیس میں 29 گواہ تھے، 10 کے بیانات باقی ہیں۔

واضح رہے ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ پروین رحمان کو 2013 میں قتل کیا گیا تھا ، مقدمےمیں رحیم سواتی،عمران سواتی،احمدخان،امجدحسین اورایاز سواتی گرفتار ہے۔

ان کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم رحیم سواتی کو مئی 2016 میں خفیہ اطلاع پر منگھوپیر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا ، ملزم کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا اور اس کے ریکارڈ پر قبضہ گیری اور بھتہ خوری جیسے جرائم بھی موجود تھے ۔ ملزم کا کہنا تھا کہ پروین رحمان ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔

گزشتہ برس پولیس نے امجد نامی ایک اور ملزم کو طویل عرصے تک ریکی کی انتھک محنتوں کے نتیجے میں گرفتار کیا تھا، پولیس کےمطابق مذکورہ ملزم کے لیے تین سال تک ریکی کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں