The news is by your side.

Advertisement

حاجیوں سے لوٹے گئے قیمتی سکے امریکہ سے کیوں برآمد ہوئے؟ سنسی خیز انکشاف

سال1695 میں حاجیوں کو مکہ مکرمہ سے واپس ہندوستان لانے والے بحری جہاز کو تاریخ کے بدنام زمانہ بحری قزاق ہنری ایوری نے لوٹ لیا تھا اور بھاری تعداد میں موجود قیمتی سکے اپنے ساتھ لے گیا۔

ہو سکتا ہے کہ  امریکا میں دریافت ہونے والے چاندی کے عربی سکے دراصل تاریخ کی بدنام زمانہ بحری قزاقی کی باقیات ہوں اور ممکن ہے کہ تاریخ کا مشہور ترین قزاق اسی علاقے میں رہائش پذیر  ہو۔

ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ1690ء کی دہائی میں امریکی نو آبادیات میں یہ خاص سکے عام طور پر مفرور بحری قزاق ہنری ایوری، جسے جان ایوری بھی کہا جاتا ہے کے ساتھی استعمال کرتے تھے۔ وہ حج سے واپس آنے والے مسافروں کو واپس ہندوستان لے جانے والے مغل بحری جہاز کو لوٹنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گو کہ محققین کو یقین نہیں کہ یہ سکے اس بحری جہاز “گنج سواہی” ہی سے لوٹے گئے تھے لیکن ان سکوں کی تاریخ اور اتنے دور دراز علاقے میں دریافت بتاتی ہے کہ بحری قزاقوں نے لوٹ مار کے بعد اس خزانے کو امریکا میں اپنی ضروریات پر خرچ کیا تھا۔

یہ بھی ہو سکتا ہے یہ سکے ایوری خود استعمال کرتا ہو جو اس واقعے کے چند سال بعد غائب ہو گیا تھا لیکن آج بھی اسے بحری قزاقی کے بد ترین دور کاسب سے بڑا  لٹیرا  سمجھا جاتا ہے۔

اس دریافت سے جان ایوری کی شخصیت بھی نمایاں ہورہی ہے جو اس بڑے خزانے کو لوٹنے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ اس حوالےسے امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں میٹل ڈٹیکٹرسٹ جم بیلی کہتے ہیں کہ “ہم بلا شک و شبہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایور امریکی نو آبادیات ہی میں مقیم تھا۔”

ماہرِ آثارِ قدیمہ بیلی نے چاندی کے چار عرب سکوں میں سے پہلا 2014ء میں ایکوئیڈنیک جزیرے کی ایک نو آبادی سے دریافت کیا تھا، جو پروویڈنس شہر سے تقریباً 32 کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع ہے۔

اب تک رہوڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس، کنیکٹیکٹ اور شمالی کیرولائنا کی ریاستوں سے ایسے درجن سے زیادہ چاندی کے سکے دریافت ہو چکے ہیں جو گنجِ سواہی سے لوٹے گئے تھے جو تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کے آخری ثبوت ہو سکتے ہیں۔

یہ سال 1695ء تھا جب اس نے بحری جہاز “فینسی” کے ذریعے مکہ مکرمہ سے ہندوستان جانے والے حاجیوں کے  ایک بحری قافلے پر حملہ کیا تھا۔ ایوری کے بحری جہاز نے اس قافلے میں موجود گنجِ سواہی کا تعاقب کر کے اسے پکڑ لیا، جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی ملکیت تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ اس حملے میں بحری قزاقوں نے اس جہاز کے عملے اور 600 مسافروں کو بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا، اور اس پر موجود سونے اور چاندی کے سکے لوٹ لیے، جن کی مالیت 2 سے 6 لاکھ برطانوی پاؤنڈز بتائی جاتی ہے۔ یہ آج کے لحاظ سے 40 سے 130 ملین ڈالرز کے بنتے ہیں۔

اس واقعے پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے بہت ہنگامہ مچایا کیونکہ ہندوستان میں اس کی لوٹ مار کو اب ایک براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا تھا،  تب برطانیہ کے شاہ ولیم ثانی نے ایوری اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے کا حکم دیا جو غالباً دنیا میں کسی ملزم کی پہلی بین الاقوامی تلاش ہوگی۔ اس کے سر کی قیمت 1,000 پاؤنڈز لگائی گئی، جو اس زمانے کے لحاظ سے بڑی رقم تھی۔ لیکن ایوری کبھی کسی کے ہاتھ نہیں لگا۔

 تب تک ایوری اور اس کا عملہ بھاگ کر”نئی دنیا” یعنی امریکا پہنچ گیا۔ انہوں نے کئی مہینے بہاماس میں گزارے، اور 1696ء میں جب برطانوی بحریہ قریب آنے لگی تو یہ لوگ  وہاں سے بھی بھاگ نکلے۔ ایوری کے عملے کے چند اراکین اہم نو آبادیات میں رہنے لگے، جہاں وہ بالآخر  پکڑے گئے اور رشوت دے کر چھوٹ بھی گئے لیکن ایوری کا کچھ پتہ نہیں چلا۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھاگ کر آئرلینڈ چلا گیا تھا اور وہیں پر چند سالوں بعد انتہائی کسمپرسی میں مرا۔ کیونکہ گنجِ سواہی کا خزانہ کبھی برآمد نہیں ہوا اس لیے آج بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ اسے کسی خفیہ مقام پر دفنا دیا گیا ہوگا۔

بیلی ایک شوقیہ ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں جو 1984ء میں کیپ کوڈ کے پاس دریافت ہونے والے قزاقوں کے بحری جہاز”ویداہ ”کے ملبے کی بحالی پر کام کر چکے ہیں۔ سال 2014ء میں ان کے میٹل ڈٹیکٹر نے ایکوئیڈنیک کی ایک چراگاہ میں کچھ پراسرار سکوں کا پتہ چلایا۔ یہ علاقہ ایک زمانے میں نو آبادیاتی قصہ تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ “میں نے پانی سے ان سکوں کو صاف کیا تو نیچے نے عربی تحریر نکل آئی، میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ یہ سکے اصل میں آئے کہاں سے ہیں۔ 17 ویں صدی کے اوائل میں ان امریکی نو آبادیات میں بحری قزاقوں کے اڈے تھے۔”

سکے پر لکھی گئی عربی میں ایک طرف درج ہے کہ یہ سکہ 1693ء میں جنوبی عرب میں یمن میں ڈھالا گیا تھا، یعنی گنجِ سواہی پر حملے سے محض چند سال پہلے اس طرح کے مزید 13 سکے بھی دریافت ہوئے ہیں لیکن 2018ء میں کنیکٹیکٹ میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دو عثمانی ترک چاندی کے سکوں کا پتہ چلایا۔ انہوں نے اب تک جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ان میں سے کوئی بھی 1695ء کے بعد کا سکہ نہیں ہے، یعنی اس سال کا کہ جب گنجِ سواہی کو لوٹا گیا۔

گو کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جان  ایوری بہاماس میں کچھ وقت گزارنے کے بعد براہ راست آئرلینڈ چلا گیا تھا لیکن بیلی کی تحقیق بتاتی ہے کہ اس نے پہلے چند ہفتے امریکا میں گزارے تھے۔

اس نے افریقی غلاموں کی تجارت کی جو ایوری نے گنجِ سواہی کی لوٹ مار  سے ملنے  والے پیسوں سےخریدے تھے۔ اس نے بہاماس میں “سی فلاور” نامی ایک بحری جہاز خریدا تھا اور درجنوں غلام امریکا میں آکر فروخت کیے۔

بیلی سمجھتے ہیں کہ ایوری ممکنہ طور پر آئرلینڈ میں مرا ہوگا، جیسا کہ کچھ داستانیں مشہور ہیں لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مڈگاسکر میں ایک بحری قزاقوں کے ایک زبردست خفیہ ٹھکانے پر چلا گیا تھا اور وہاں “شاہانہ” زندگی گزاری۔

گو کہ یہ جاننے کا کوئی واضح طریقہ نہیں ہے کہ امریکا میں ملنے والے ان سکوں کو دراصل ایوری نے خود استعمال کیا تھا لیکن بیلی کو یقین ہے کہ وہ مغل بحری جہاز سے لوٹی گئی دولت ہی کا حصہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ زیادہ تر سکے پگھلا دیے گئے ہوں گے تاکہ ان کا پتہ نہ چل سکے۔اس کے علاوہ  ہمیں جو ملے ہیں  وہ دراصل ایسے سکے ہیں جو بحری قزاقوں نے اپنے فرار کے دوران استعمال کر لیے تھے۔ کھانے، پینے یا کہیں قیام کرنےکے لیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں