site
stats
ماحولیات

سندھ کے بجٹ میں ماحولیات کا شعبہ نظر انداز

کراچی: پاکستان کو موسمیاتی تغیرات (کلائمٹ چینج) سے پہنچنے والے تباہ کن نقصانات کے باجود صوبہ سندھ کے مالی سال 18-2017 کے بجٹ میں ایک بار پھر شعبہ ماحولیات کو نظر انداز کردیا گیا۔

رواں سال کے بجٹ میں شعبہ ماحولیات کے لیے صرف 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام کی رقم کا صرف 0.11 فیصد حصہ ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ماحولیات کے شعبہ کو نظر انداز کرتا ہوا یہ بجٹ ماحولیات کے عالمی دن یعنی 5 جون کو ہی پیش کیا گیا۔

گزشتہ برس مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں ماحولیات کے لیے 40 کروڑ 55 لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا جس میں سے 10 کروڑ 55 لاکھ روپے ماحولیاتی ترقیاتی پروگرام جبکہ 30 کروڑ روپے ساحلی علاقوں کی ترقی و بحالی کے لیے رکھے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے لیے ماحولیاتی خطرات سے نمٹنا کیوں ضروری؟

رواں سال نہ صرف اس رقم میں مزید کمی کردی گئی بلکہ بجٹ میں تحفظ ماحول سے متعلق کسی پروگرام کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا۔

یہی نہیں گزشتہ سال جن ماحولیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا وہ بھی تاحال ادھورے ہیں۔

ماہرین ماحولیات نے اس امر کو حکومت کی غیر سنجیدگی قرار دیتے ہوئے تحفظ ماحول کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر زور دیا ہے۔

پنجاب میں تحفظ ماحول

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے مالی سال 18-2017 کے بجٹ میں ماحولیات کا بجٹ گزشتہ برس کے 10 کروڑ 85 لاکھ سے بڑھا کر 50 کروڑ 40 لاکھ روپے کردیا گیا۔

صوبے میں تحفظ ماحول اور پائیدار ترقی کے حوالے سے 7 نئی اسکیموں کا آغاز بھی کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کے مستقبل کے لیے پائیدار ترقیاتی اہداف

علاوہ ازیں پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے کئی نئے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں جن میں ایجنسی برائے تحفظ ماحول کے اہلکاروں کی استعداد میں اضافے کے پروگرام، صنعتی آلودگی کی نگرانی، عوامی شعور و آگاہی اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس وفاقی بجٹ 18-2017 میں موسمیاتی تغیرات اور ماحولیات سے متعلق 81 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top