The news is by your side.

Advertisement

حکومت سندھ نےماہی گیروں کو کڑی شرائط پر کاروبار کی اجازت دے دی

کراچی: حکومت سندھ نے فشریز اور فش ہاربر کو کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سخت ایس او پیز جاری کردیے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایس او پیز میں بتایا گیا ہے کہ فش ہاربراتھارٹی اسٹیک ہولڈرز سے ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لیے حلف نامہ جمع کرے۔

اس ضمن میں سیکریٹری لائیو اسٹاک فشریز نے  نیا نوٹی فکیشن جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ 12 اپریل کو ناقص انتظامات ہونے کی وجہ سے فشریز کو بند کیا گیا تھا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق حفاظتی انتظامات کےساتھ فشریز کو کھولنے کی اجازت دی جارہی ہے، ہاربر اور فشریز کے اوقات کار شام 6 سے صبح 6 بجے تک ہوں گے، صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے قواعد و ضوابط پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایکٹ 2014 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ’ماہی گیروں کے لیے سمندر سے اچھا قرنطنیہ کوئی اور نہیں ہے‘

نوٹی فکیشن میں حکم دیا گیا ہے کہ ماسک، سینیٹائزر اور سماجی فاصلوں کا خیال لازم ہوگا،فش ہاربر، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا عملہ احتیاطی تدابیرپر عمل کا پابند ہوگا، غیرضروری گاڑیوں اور غیرمتعلقہ افرادکے داخلے پر پابندی ہوگی، شکار کی جانے والی مچھلی کو ہاربر پر اتارنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

ایس او پیز کے مطابق فشریز یا ہاربر میں چار سے زائد افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی ہوگی جبکہ تین سے پانچ افراد کو مچھلی کی خریداری اور بولی میں شرکت کی اجازت ہوگی، بولی فائنل ہونےکےبعد مچھلی کو متعلقہ گاڑی میں منتقل کرنےکی اجازت ہوگی، جس میں پانچ سے زیادہ مزدور کام نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 14 اپریل تک مچھلی فروخت کرنے والا شخص کرونا کا مریض بن گیا

نوٹی فکیشن میں حکم دیا گیا ہے کہ مچھلی کی فروخت کےبعد ہاربر کی صفائی لازمی کی جائے گی، مچھلی ایکسپورٹ سے وابستہ عملے اور اُن کی گاڑیوں کا داخلہ واک تھرو سینیٹائزر گیٹ سے ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں