The news is by your side.

Advertisement

وزیر صحت سندھ نے پاکستان میڈیکل کمیشن بل کی مخالفت کردی

کراچی : وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پاکستان میڈیکل کمیشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل سے چھوٹے صوبوں میں طبی شعبہ کے انسانی وسائل متاثر ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پاکستان میڈیکل کمیشن بل کی مخالفت کردی اور اپنے بیان میں واضع کہا کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان میڈیکل کمیشن کا بل اس وقت منظور کیا جب حزب اختلاف کے بیشتر ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے، اس سے قبل سینیٹ میں اکثریتی ووٹ کے ذریعہ اسی بل کو پہلے ہی مسترد کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ اس مضحکہ خیز بل کی منظوری 18ویں آئینی ترمیم کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت صحت کا شعبہ صوبائی سبجیٹ ہے اور وفاق کا یہ طرز عمل آئین سے ٹکراوٴ کے مترادف ہے، اس کے علاوہ یہ بل چھوٹے صوبوں کے لئے تباہی کا باعث ہوگا کیوں کہ اس کے تحت نجی شعبے کے تحت چلنے والے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز متعلقہ صوبے کے علاوہ بھی طلباء کو داخلہ دینے کی اجازت مل جائے گی۔

وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سندھ میں تقریباً 5000 ڈاکٹر ہر سال فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیوں سے 2500 ڈاکٹرز کو صوبائی ڈومیسائل پالیسی پر عمل کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں سے صوبائی ڈومیسائل پالیسی پر عمل کے علاوہ ایک بڑی تعداد ہماری نجی یونیورسٹیوں سے بھی فارغ التحصیل ہوتی ہے، جن کی تعداد تقریبا 2700 کے قریب بنتی ہے، نجی اداروں کے لیے ڈومیسائل پالیسی ختم ہونے سے سندھ میں زیادہ تر سیٹس پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ایڈمیشن مل سکیں گے جو کہ یہاں سے ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے صوبے میں جا کر طبی خدمات سرانجام دیں گے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا پنجاب سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ایڈمیشن ملنے کے باعث سندھ کو ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہوگا، اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت نے میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ لینے والے طلباء کے لئے ایم ڈی سی اے ٹی MDCAT کے ذریعے داخلے کی پالیسی بھی بنا لی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ وفاقی حکومت کے ذریعہ ڈیزائن کیا جائے گا جو کہ ظاہر ہے وفاقی نصاب کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں