The news is by your side.

Advertisement

بیٹی گھر جانا چاہتی ہے، دعا زہرا کے والدین کا دعویٰ غلط قرار

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے دعازہرا کے والدین کے دعوی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین نہیں ، بچی نے حلفیہ بیان دیا اس کی اہمیت ہے آپ جائیں ۔

تفصیلات کے مطابق دعا زہرا کیس میں دعا زہرہ کے والد ملاقات کے بعد اپنے وکیل کی ہمراہ روسٹرم پر پہنچے ، والد نے دعویٰ کیا کہ میری بیٹی نے گھر جانے کا کہا ہے ، ملاقات کے دوران دعا نے کہا کہ وہ گھر جانا چاہتی ہے۔

وکیل اور والد نے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر نظرثانی کی جائے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کیسی بات کررہے ہیں بچی نے حلفیہ بیان دیا ہے ، حلفیہ بیان کے باوجود آپ ہمیں ایک اورحکم کا بول رہے ہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین نہیں ، بچی نے حلفیہ بیان دیا اس کی اہمیت ہے جائیں آپ۔

مزید پڑھیں : دعا زہرا سے ملاقات کے بعد والدین کا بڑا دعویٰ

یاد رہے والدین نے چیمبر میں دعا سے ملاقات کے بعد دعویٰ کیا کہ بچی گھر واپس جانا چاہتی ہے اور جج کے سامنے بیان بھی ریکارڈ کرانا چاہتی ہے۔

والد نے کہا تھا کہ پولیس نے بچی کو والدین سے مزید ملاقات سے روک دیا ہے ،ہم نے جج سے گزارش کی کہ بچی کا دوبارہ بیان ریکارڈ کیا جائے ،جج صاحب نے بھی کہا کہ بیان ایک ہی دفعہ ہوتا ہے ،

مہدی کاظمی کاکہنا تھا کہ مجھے انصاف کے دروازوں پر انصاف نہیں ملا ،میں نادرا اور قومی دستاویزات بنوائی ،اگر یہ قانونی دستاویزات ٹھیک نہیں ہیں تو ان دستاویزات کو آگ لگا دوں۔

مزید پڑھیں : دعازہرا کیس کا فیصلہ محفوظ

دعا زہرا کے والد نے وفاقی حکومت ،ڈی جی رینجرز اور دیگر سے انصاف کی اپیل کردی۔

خیال رہے سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ، جسٹس جنید غفار نے دعا زہرا کے والد سے کہا ہمارے پاس بچی کا بیان ہے ، ہم نے سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کو دیکھنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں