The news is by your side.

Advertisement

سندھ اورخیبرپختونخواہ کی اسمبلیاں مدت پوری ہونےکے بعد تحلیل

کراچی : سندھ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی اسمبلیاں اپنی 5 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی اسمبلیاں اپنی 5 سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہوگئیں تاہم موجودہ وزرائے اعلیٰ، نگراں وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی تک اپنے عہدوں پر بحال رہیں گے۔

سندھ اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی اسمبلیوں کو رواں ماہ 31 مئی تک ورائے اعلیٰ نامزد کرنے ہیں۔

وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر دو روز میں نگراں وزیراعلیٰ کے ناموں پراتفاق نہیں ہوا تو یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے دو، دو اراکین ہوں گے۔

کمیٹی اگر وزیراعلیٰ نامزد کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نگراں وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ کرے گی۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت کا آخری اجلاس اسپیکرآغا سراج درانی کی صدارت میں ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے، یہ سندھ کے عوام کی فتح ہے کہ انہوں نے ہمیں ووٹ دے کریہ عہدہ دیا اور ہم نے اپنی قابلیت سے بہترین کام کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ انفراسٹرکچر کا کام وقت پرمکمل کیا گیا، سندھ کے تقریباََ تمام اضلاع روڈ نیٹ ورک اور پلوں سے جڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ کے اعلان تک وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

خیبرپختونخواہ اسمبلی

خیبرپختونخواہ اسمبلی نے 5 سالوں کے دوران 150 سے زائد قوانین وضع کیےجن میں ناظرہ قرآن کو لازمی قرار دینا اور اطلاعات تک رسائی قانون شامل ہیں۔

قومی وطن پارٹی پانچ سالوں میں دو بار خیبرپختونخواہ حکومت میں شامل ہوئی جبکہ جماعت اسلامی نے ایم ایم اے کی تشکیل کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخواہ میں نگراں وزیراعلیٰ کے لیے منظور آفریدی کے نام پراتفاق کیا گیا فیصلہ واپس لے لیا جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کےلیے نئے نام کا فیصلہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور اپوزیشن لیڈرکے درمیان ملاقات میں طے پایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیاں 31 مئی کو اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل ہوں گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں