The news is by your side.

Advertisement

میر علی شیر قانع ٹھٹوی کا تذکرہ

شیراز اور اہلِ شیراز کو فارسی گو ممالک کے تمام لوگ پسند کرتے ہیں، کیونکہ اسی خاکِ پاک سے سعدی اور حافظ اٹھے ہیں اور یہ دو بزرگ اور صاحب دل شعراء استنبول سے لے کر ڈھاکہ اور کلکتہ کے لاکھوں لوگوں کے افکار پر قرنوں سے مسلط ہیں۔

ہم نے اپنی طفلی کے دوران دیوانِ حافظ پڑھا تھا اور بوستان و گلستان ہمارے مکتب کی درسی کتابیں تھیں۔ اس خاک سے مسلسل اہلِ علم رجال ابھرتے اور اکنافِ عالم میں دانش و بینش کے پھیلانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔

آج سے پانچ صدیوں قبل، ان دنوں جب ہرات دانش و ہنر کا مرکز تھا اور علم پرور بادشاہ اس شہر پر حکم رانی کرتے تھے، ایک نجیب الطرفین سید شیراز سے رخصت ہوئے اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہرات آ گئے۔ بعد میں ان نجیب اور دانش مند کی اولاد میں سے کئی بزرگ مؤلفین اور شعراء ٹھٹہ میں سامنے آئے جو کہ اُس وقت علم و ہنر کا مرکز تھا۔

میر علی شیر قانع بھی اسی علم و ذکاوت کے لیے معروف خاندان کے اخلاف میں سے تھے۔ وہ 1728ء کو ٹھٹہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے علم و فضل میں اکتساب کیا اور چونکہ اس وقت ٹھٹہ علم، ثقافت، ادب اور تہذیب کا مرکز تھا، اس لیے میر علی شیر نے اسی گہوارۂ ثقافت میں پرورش پائی اور شعر گوئی اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا۔ انہوں نے اپنے لیے ‘قانع’ کو تخلص کے طور پر منتخب کیا۔

قانع ایک توانا مصنّف، مؤرخ اور فارسی و سندھی زبان کے اچھے شاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب اور ان کی کی تالیفات کے تنوع سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قریباً تیس ہزار فارسی اشعار کہے اور 42 کتابیں تصنیف کیں، جن میں سے چند یہ ہیں: مقالات الشعراء جس میں ایسے تقریباً ہزار فارسی گو شعراء کا حال درج ہے جنہوں نے سندھ میں زندگی بسر کی تھی یا پھر دیگر جگہوں سے سندھ میں ہجرت کر گئے تھے۔ تین جلدوں پر مشتمل تحفۃُ الکرام، زبدۃُ المناقب، مختار نامہ، انشائے قانع۔

میر قانع فنِ تاریخ گوئی اور صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے ان کے اکثر اشعار ان موارد پر ہیں۔ وہ شاہانِ عصر کے دربار میں اور محافلِ دانش مند و علماء میں شمعِ فروزاں کے مانند تھے۔ زمانے کے سخنور ہمیشہ ان سے ملاقات کے لیے آتے تھے اور ٹھٹہ میں ان کی قیام گاہ مدتوں تک ادب و سخن سرائی کا مرکز تھی۔

قانع اپنے زمانے کے اکثر علوم و فنون سے آشنا تھے اور گوناگوں موضوعات پر انہوں نے قلم اٹھایا ہے۔ ان کی کتاب نصاب البلغاء ایک بڑی لغت ہے جس میں اس طرح کے کئی الفاظ اور اداری، علمی، فنی اور پیشہ ورانہ اصطلاحات جمع کی گئی ہیں۔

مختصراً کہیں تو میر قانع جیسے کم ہی زمانے میں نظر آتے ہیں۔ اس اعجوبۂ روزگار شخصیت کا سنِ وفات 1788ء ہے۔

(افغان محقق عبدالحئی حبیبی کی تحریر کا اردو ترجمہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں