ہفتہ, مئی 18, 2024
اشتہار

” کسی ذکر نہیں کرنا کہ تم بانڈ کو دیکھا تھا!”

اشتہار

حیرت انگیز

راجر مور 1973ء میں بطور جیمز بانڈ پہلی مرتبہ سامنے آئے اور اگلے بارہ سال تک اس سلسلے کی سات فلموں میں یہ مشہورِ زمانہ کردار نبھاتے رہے۔ شائقین کو یاد ہو گا کہ بطور خفیہ ایجنٹ اُن کے چہرے پر ایک خفیف مسکراہٹ رہتی تھی جو ان کے دشمن کو غصّہ دلاتی تھی۔

برطانوی اداکار راجر مور کی انفرادیت یہ بھی تھی کہ انھوں نے جیمز بانڈ کے روپ میں اپنے مکالمے لطیف انداز اور طنزیہ پیرائے میں ادا کیے، جیمز بانڈ دیوانوں کو یہ بھی یاد ہو گا کہ راجر مور کس طرح اپنے ابرو اٹھا کر مخصوص انداز میں ڈائیلاگ ادا کرتے تھے۔ ان کی یہی ادا جمیز بانڈ کے روپ میں ان کے مداحوں کی تعداد کو بڑھاتی چلی گئی۔

اپنی حقیقی زندگی میں بھی راجر مور بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ آج راجر مور کی وفات کا دن ہے۔ اس مناسبت سے ہم برطانوی اداکار راجر مور سے متعلق 1983 کا ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جو ان کے مداحوں کی دل چسپی کا باعث بنے گا۔ ملاحظہ کیجیے۔

- Advertisement -

راجر مور نیس کے ہوائی اڈے پر اپنی پرواز کا انتظار کر رہا تھا، اچانک ایک سات برس کے بچّے کی نظر اُس پر پڑی اور وہ ’’جیمز بانڈ‘‘ کو دیکھ کر بے حال ہو گیا، وہ اپنے دادا کے ساتھ ہوائی اڈے پر موجود تھا جو بانڈ کو نہیں جانتے تھے۔ بچّے نے دادا سے فرمائش کی کہ اسے جیمز بانڈ سے آٹو گراف لینا ہے، سو دونوں بانڈ کے پاس گئے اور آٹو گراف مانگا۔ راجر مور نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بچّے کے ٹکٹ پر اپنا نام لکھ دیا اور اس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ بچّہ خوشی خوشی وہاں سے اپنی سیٹ پر واپس چلا آیا اور جب اس نے دوبارہ ٹکٹ کو دیکھا تو اس پر جیمز بانڈ کا نام نہیں بلکہ راجر مور لکھا ہوا تھا، اس نے دادا کو کہا کہ بانڈ نے اپنا نام غلط لکھ دیا ہے، وہ ایک مرتبہ پھر ’’جیمز بانڈ‘‘ کے پاس گئے اور بچّے نے غلطی کی نشان دہی کی۔ راجر مور نے بچّے کو اپنے قریب کیا، اور چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا، اور پھر سرگوشی کی ’’میں نے جان بوجھ کر اپنا نام راجر مور لکھا ہے، کیوں کہ اگر میں صحیح نام لکھ دوں تو شاید بلو فیلڈ (جیمز بانڈ کا روایتی ولن) مجھے ڈھونڈ لے، اس لیے تم نے کسی ذکر نہیں کرنا کہ تم بانڈ کو دیکھا تھا!‘‘

یہ سن کر بچّے کا چہرہ تمتما اٹھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ بھی جیمز بانڈ کا ساتھی ہے اور اس کی یہاں موجودگی کو راز رکھنا ہے۔ کئی برس بعد وہ بچّہ ایک بڑا لکھاری بن گیا اور اتفاق سے ایک موقع ایسا آیا کہ وہ راجر مور کے ساتھ یونیسف کے ایک پراجیکٹ پر کام کرنے پہنچا، شوٹنگ کے بعد اس لکھاری نے راجر مور کو یاد دلایا کہ کئی سال پہلے کس طرح ایئر پورٹ پر اُن کی ملاقات ہوئی تھی اور جب وہ واقعی اسے جیمز بانڈ سمجھتا تھا۔ راجر مور نے کہا کہ اسے وہ ملاقات یاد نہیں۔ کچھ دیر بعد راجر مور نے اس لکھاری کو پاس بلایا، چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا، اپنے مخصوص انداز میں ابرو اٹھائے اور سرگوشی کی: ’’مجھے نیس والا واقعہ یاد ہے، اس وقت جب تم نے مجھے وہ ملاقات یاد دلانے کی کوشش کی تھی، کیمرہ مین ہمارے قریب کھڑے تھے اور ان میں سے کوئی بھی بلو فیلڈ کا ساتھی ہو سکتا تھا، اس لیے میں نے بات دبا دی!‘‘

جیمز بانڈ کے یادگار کردار نبھانے والے برطانوی اداکار راجر مور نے 89 برس کی عمر میں 23 مئی 2017ء کو انتقال کیا۔ وہ اپنی وفات کے وقت سوئٹزر لینڈ میں مقیم تھے۔ راجر مور 14 اکتوبر 1927ء کو پیدا ہوئے تھے۔

راجر مور نے سیکرٹ ایجنت جیمز بانڈ کا کردار نبھا کر شہرت کی بلندیوں کو چھوا اور 45 سال کی عمر میں اس سلسلے کی پہلی فلم ’لیو اینڈ لیٹ ڈائی‘ میں اداکاری کی۔ ہالی وڈ سمیت دنیا بھر میں فلم کے ناقدین نے ان کی اداکاری کو سراہا اور اپنے وقت کے مشہور فن کاروں نے جیمز بانڈ کے روپ میں ان کی تعریف کی۔

اداکار راجر مور اپنی فلاحی سرگرمیوں اور سماجی کاموں کے لیے بھی مشہور تھے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ضرورت مند بچّوں کے لیے امداد جمع کرنے میں انھوں نے بڑا کردار ادا کیا۔ وہ بچّوں‌ کے حقوق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتے تھے۔

دنیا بھر کے فلم بینوں میں پذیرائی حاصل کرنے والے راجر مور نے چار شادیاں کی تھیں۔ ان کی پہلی شادی 1946 میں ڈون وان اسٹائن سے ہوئی جب کہ دوسری مرتبہ 1953 میںڈورتھی اسکوائرز کو اپنا جیون ساتھی چنا، تیسری شادی 1969 میں اطالوی اداکارہ لیزا مٹولی سے اور 2002 میں کرسٹینا تولسٹرب ان کی زندگی میں شریکِ حیات بن کر آئی تھیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں