The news is by your side.

ونسٹن چرچل: لاکھوں ہندوستانیوں کا ‘قاتل’ ایک مدبّر اور زیرک سیاست داں‌

سَر ونسٹن چرچل کو دنیا ایک مدبّر اور زیرک سیاست داں تسلیم کرتی ہے۔ گیارہ برس تک برطانیہ کے وزیرِ اعظم رہنے والے چرچل عوام کے ہیرو بھی ہیں، لیکن برصغیر میں انھیں سخت متعصب اور لاکھوں انسانوں کی موت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

چرچل علم و فنون کے دلدادہ ہی نہیں‌ ایک مصنّف اور مصوّر بھی تھے۔ ان کی زندگی اور تخلیق و فن کے بارے میں‌ جاننے سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم خیرخواہ اور مصلح سر سیّد احمد خان کی وہ تحریر پڑھیے جس میں وہ تعصّب اور قوم پرستی کو بدترین قرار دیتے ہیں اور اسی تعصب نے ہندوستان میں‌ عوام کو بدترین حالات سے دوچار کیا تھا۔ سر سیّد احمد خان لکھتے ہیں:

انسان کی خصلتوں میں سے تعصّب ایک بدترین خصلت ہے۔ یہ ایسی بدخصلت ہے کہ انسان کی تمام نیکیوں اور اس کی تمام خوبیوں کو غارت اور برباد کرتی ہے۔ متعصّب گو اپنی زبان سے نہ کہے، مگر اس کا طریقہ یہ بات جتلاتا ہے کہ عدل وانصاف اس میں نہیں ہے۔ متعصّب اگر کسی غلطی میں پڑتا ہے تو اپنے تعصّب کے سبب اس غلطی سے نکل نہیں سکتا، کیوں کہ اس کا تعصّب اُس کے برخلاف بات سننے، سمجھنے اور اُس پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر وہ کسی غلطی میں نہیں ہے، بلکہ سچّی اور سیدھی راہ پر ہے تو اس کے فائدے اور اس کی نیکی کو پھیلنے اور عام ہونے نہیں دیتا۔

اگر بات کی جائے چرچل کے متعصّب ہونے کی تو ایک موقع پر اس نے کہا تھا کہ اسے ہندوستانیوں سے نفرت ہے۔ اس نے نہ صرف یہاں کے لوگوں سے نفرت بلکہ ہندوستان کے مذاہب کے لیے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے باوجود اس زمانے کے نو آبادیاتی دور اور برطانوی حکومت کے بارے میں متضاد آرا پڑھنے کو ملتی ہیں۔ مغربی مصنّفین ہی نہیں‌ اس وقت کے ہندو اور مسلمان بھی برطانوی حکومت سے متعلق مختلف جذبات اور خیالات رکھتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ چرچل کی مدبّرانہ سوچ نے دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی ایک بڑی مخالف طاقت جرمنی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا اور بعض مصنّفین نے لکھا ہے کہ چرچل نہ ہوتا تو شاید آج دنیا کی سیاسی اور جغرافیائی تاریخ کچھ مختلف ہوتی، لیکن اس کے باوجود ونسٹن چرچل کی شخصیت متنازع بھی ہے۔

برطانوی راج میں طوفان اور سیلاب کے ساتھ بنگال میں شدید قحط سے اموات اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے قیام میں چرچل کا کردار بھی موضوعِ بحث رہا ہے۔

بنگال میں قحط سے ہلاکتوں اور لاکھوں انسانوں کے متاثر ہونے کا زمانہ وہی ہے جب برطانیہ میں ونسٹن چرچل پہلی مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب ہوا۔ نوآبادیات پر متعدد برطانوی اور ہندوستانی تاریخ نویسوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اعلیٰ افسران نے اپنی حکومت کو تحریری طور پر قحط کی تباہ کاریوں اور لاکھوں انسانی زندگیوں کو درپیش خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے خوراک اور دوسری امداد کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔

ایک خیال یہ ہے کہ چرچل نے جان بوجھ کر لاکھوں ہندوستانیوں کو بھوکا مرنے دیا۔ یہ بات ہے 1942ء کی جب سمندری طوفان اور سیلاب کے باعث بنگال میں قحط پڑ گیا تھا اور خوراک نہ ملنے سے لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن گئے، اُس وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم کا خیال تھا کہ مقامی سیاست دان بھوک سے مرتے ہوئے لوگوں کی بہتر مدد کرسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی حکومت کے اسی رویّے نے بدترین حالات پیدا کر دیے تھے۔ اسے امریکیوں کے استحصال کا ذمہ دار بھی کہا جاتا ہے۔ چرچل میں برطانوی ہونے کے ناتے خود کو برتر خیال کرتا تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی دیگر اقوام اور ان کے مذاہب کے احترام سے بے نیاز تھا۔

ونسٹن چرچل 30 نومبر 1874ء کو آکسفورڈ شائر میں پیدا ہوئے۔ کم و بیش دس سال برطانیہ میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے والے چرچل نے 24 جنوری 1965ء کو لندن میں وفات پائی۔

سیاست میں قدم رکھنے سے قبل چرچل نے ہندوستان کی شمال مغربی سرحد اور پھر جنوبی افریقہ میں سپاہی اور اخباری نمائندے کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ 1901ء میں پہلی بار پارلیمنٹ کا رکن بنے اور بعد میں‌ خزانہ، داخلہ اور پھر وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھالا تھا۔

چرچل برطانیہ میں کنزرویٹو اور لبرل پارٹی کا حصّہ رہے اور عملی سیاست کے ساتھ تصنیف و تالیف کا مشغلہ بھی اپنائے رکھا۔ چرچل متعدد کتب کے مصنّف تھے۔ یہی نہیں‌ بلکہ انھیں‌ ایک مصوّر کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ انھوں نے کئی فن پارے تخلیق کیے جن میں‌ چرچل کے ہاتھ کا ایک شاہ کار فن پارہ مسجدِ کتبیہ کا تھا جو مراکش کی مشہور جامع مسجد ہے۔ یہ مسجد 1184ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ پینٹنگ چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے دوران سابق امریکی صدر روز ویلٹ کے لیے بنائی تھی۔ یہ فن پارہ امریکی اداکارہ انجیلینا جولی کی ملکیت تھا جو انھوں نے دو سال قبل ایک کروڑ 15 لاکھ ڈالر (ایک ارب 80 کروڑ روپے) میں نیلام کر دیا۔ چرچل کی یہ پینٹنگ ٹاور آف کتبیہ کے نام سے محفوظ ہے۔ اس میں‌ مسجد کے مینار اور ارد گرد کی منظر کشی کی گئی ہے۔

کہتے ہیں‌ کہ اس مسجد کے ساتھ لگ بھگ دو ڈھائی سو کتابوں کی دکانیں موجود تھیں‌ جس کی وجہ سے اسے مسجدِ کتبیہ پکارا جانے لگا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دور میں مراکش کے لوگ بھی علم و فنون کا شوق رکھتے تھے۔

سر ونسٹن چرچل کو 1953ء میں ادب کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں