The news is by your side.

Advertisement

"نہ جنوں رہا نہ پری رہی….” سراج اورنگ آبادی کا تذکرہ

اردو شاعری کے کلاسیکی دور کا ایک نام سراج اورنگ آبادی کا ہے جنھیں‌ صوفی شاعر بھی کہا جاتا ہے ان کی ایک غزل کا مطلع دیکھیے

خبرِ تحیرِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

اردو زبان کے ادیبوں اور شعرا نے اپنی کتابوں کے نام اس شعر سے مستعار لیے اور ٹیلی وژن ڈراموں کے لیے بھی ان دو مصرعوں سے نام چنا گیا۔ سراج اورنگ آبادی کی یہ غزل کئی مشہور اور بڑے گلوکاروں نے گائی اور اسے بہت پسند کیا گیا۔

سراج اورنگ آبادی ایک بڑے اور منفرد شاعر تھے جن کے کلام کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ آج بھی زندہ ہے اور اس کی زبان برسوں بیت جانے کے باوجود تازہ معلوم ہوتی ہے۔ ان کا سنِ پیدائش 1712ء اور یومِ‌ وفات 6 اپریل 1764ء ہے۔

سراج کا پورا نام میر سراج الدّین تھا۔ والد نے ان کی تعلیم و تربیت پر خوب توجہ دی تھی۔ بارہ سال کی عمر تک سراج متداول علوم کی تحصیل میں مصرف رہے۔ اور تمام فارسی اساتذہ کا کلام پڑھ ڈالا۔ مشہور ہے کہ اسی زمانے میں وہ صوفی بزرگ برہان الدّین کے مزار پر جانے لگے اور رفتہ رفتہ ان کی حالت ایک مجذوب کی سی ہوگئی۔ انھیں گھر میں قید رکھنا پڑا اور یہ حالت سات سال تک رہی۔ بعد میں انھوں نے اس دور کے ایک جیّد بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسی زمانے میں شاعری کا آغاز کیا۔ سراج کی کلیات میں غزلیں، قصیدے، رباعیات اور مثنوی شامل ہیں۔ لیکن وہ اپنی مثنوی’بوستانِ خیال’ اور اپنی غزلوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔

سراج کی شاعری اردو میں عشقیہ شاعری کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ سراج کا معاملہ رہا کہ وہ ایک صوفی اور درویش بن گئے تھے اور اسی لیے ان کے ہاں وارفتگی، سوز و گداز، کیف و سرمستی اور وجد کا عالم نظر آتا ہے جس میں عشق اور پاکیزگی اپنی انتہا پر ہے۔

سراج کی شاعری میں زبان اور اسلوب، رنگِ تغزل، بے تکلفی، بے ساختگی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ سراج کی زبان اپنے تمام ہم عصروں کے مقابلے میں‌ آج بھی زیادہ تازہ نظر آتی ہے۔

سراج اورنگ آبادی کی مشہور غزل پیشِ خدمت ہے۔

خبرِ تحیّرِ عشق سن، نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباسِ برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی

چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہو سو ہری رہی

نظرِ تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں
کہ شراب صد قدح آرزو خمِ دل میں تھی سو بھری رہی

وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی

کیا خاک آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراجؔ کوں
نہ خطر رہا نہ حذر رہا، مگر ایک بے خطری رہی

Comments

یہ بھی پڑھیں