The news is by your side.

Advertisement

حکومت میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھیں بند کرلیں، سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم خیبرپختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنکھیں بند کرلیں۔

یہ بات انھوں نے اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں کہی، انھوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں پی ٹی آئی بھی آزاد ہے اور ہم بھی جمہوری جماعت ہونے کے ناطے اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں، انھوں نے پاناما معاملے پر دھرنے کا فیصلہ کیا تو ہم نے ساتھ نہیں دیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پرویزخٹک ذمہ دار آدمی ہیں، انھوں نے جو وضاحت کی ہے، ان کی بات کا اعتبار کرنا  چاہیے، میں بھی پرویز خٹک صاحب کی بات پر اعتماد کررہا ہوں۔ اوپر سے میرا مطلب عمران خان ہی تھا۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے سختی سے یہ الزام مسترد کردیا تھا کہ کوئی اوپر سے مجھے آرڈر دیتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سوا کوئی مجھے حکم نہیں دے سکتا۔‘

سراج الحق کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمیں نے خود اعلان کیا ہے کہ ان کے ارکان بکے ہیں، اب الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے کہ ان ارکان کو بلا کر پوچھے۔

انھوں نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں خود کو عوامی نمائندہ سمجھتا ہوں، اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ سب عوام کو بتانے کی ضرورت ہے۔ عام انتخابات سے قبل معاملات ٹھیک نہیں ہوتے تو سیاست ایسی ہی چلتی رہے گی۔

عمران خان کے سوا کوئی مجھے حکم نہیں دے سکتا، پرویز خٹک

سراج الحق نے کہا کہ پاناما کیس ہم عدالت لے کر گئے اور ایک وزیر اعظم نااہل ہوا، میں اسٹیٹس کو کے مقابلے میں اسلامی نظام کا علم بردارہوں، موجودہ نظام سرمایہ داروں کا ہے، آئندہ انتخابات ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں