The news is by your side.

Advertisement

ایک ارب سے زائد افراد سانس کی پراسرار بیماری میں مبتلا

جینیوا: عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس کی پراسرار بیماری سلیپ اپنیا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک ارب تک پہنچ گئی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سلیپ اپنیا نامی بیماری پراسرار انداز سے حملہ کرتی ہے جس کے بعد متاثرہ شخص کا زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔

علامات

ماہرین کے مطابق وائرس اُس وقت حملہ کرتا ہے جب انسان سورہا ہوتا ہے، متاثرہ شخص نیند کے چوتھائی حصے میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے جسم کے پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، اگر یہ صورت حال گلے کے ساتھ ہو تو سانس کی نالی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور آواز بالکل بند ہوجاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سانس یا آواز بند ہونے کا عمل چند لمحوں کے لیے ہوتا ہے جس کی وجہ سے سوتا ہوا شخص ہڑبڑا کر اٹھتا ہے، اُس لمحے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ، جسم پسینے میں شرابور اور جسم کانپ رہا ہوتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا تعلق وائرس یا بیرونی عوام سے نہیں بلکہ انسان کے جسمانی عوارض یا اعصابی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی وجوہات کے حوالے سے تاحال ماہرین کا اختلاف ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سانس کی بیماری (سلیپ اپنیا) سے دنیا بھر میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک ارب تک پہنچ گئی ہے۔

بیماری کے اثرات

ماہرین کے مطابق بیماری کا اثر انسان کے دماغی خلیوں، دل کے پٹھوں اور شریانوں پر ہوتا ہے۔ اس کے شکار لوگوں میں آکسیجن کی مسلسل کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے خون میں بھی خطرناک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو جسم کے دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد طبی ماہرین کو شدید مشکلات ہیں، چونکہ سلیپ اپنیا کے مریض کو بھی وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے اسی لیے ماہرین نے اس صورت حال کو خطرناک قرار دیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں