عمران خان کا وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ، خزانے کو 2 ارب کی بچت -
The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کا وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ، خزانے کو 2 ارب کی بچت

اسلام آباد: خلیجی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے سے قومی خزانے کو پونے 2 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے پر خلیجی اخبار میں شائع کیے گئے تجزیہ کے مطابق عمران خان کے اس عمل سے خزانے کا بوجھ کم ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے سے قومی خزانے کو پونے 2 ارب سے زائد کی بچت ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا، وہ اپنے خطاب میں وزرا کالونی میں مقیم ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ شاید عمران خان بطور وزیر اعظم اسپیکر ہاؤس کو استعمال میں لائیں گے۔ عمران خان جہاں بھی رہیں وزیر اعظم ہاؤس منتقل نہ ہو کر عوام کو واضح پیغام دیں گے۔

خلیجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عوام پر عمران خان کے فیصلے کا نہایت مثبت اثر اور یقین میں اضافہ ہوگا۔ سادہ رہائش سے عوام میں اعتماد پیدا ہوگا کہ ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہو رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف نے دو دہائیوں پہلے وزیر اعظم ہاؤس کی عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کو مغل دور کے شاہی محلات کی طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 5 وسیع باغیچے اور پھلوں کا ایک بڑا باغ وزیر اعظم ہاؤس کا حصہ ہے۔ کئی تالاب، بڑا ہال، کمیٹی رومز بھی وزیر اعظم ہاؤس کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ملازمین، محافظ، پولیس و دیگر عملے کی رہائش گاہیں بھی احاطے میں قائم ہیں۔ 50 افسران پر مشتمل پروٹوکول دستہ آؤ بھگت کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ شاہی عمارت کی حفاظت پر سالانہ 980 ملین روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کے عملے کے لیے 700 ملین روپے مختص ہوتے ہیں، 150 ملین روپے مہمانوں کے خیر مقدم،تحائف پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی سالانہ تزئین و آرائش پر 15 ملین خرچ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تحریک انصاف قیادت سمجھتی ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں 4 جامعات قائم ہوسکتی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں