The news is by your side.

Advertisement

اسمارٹ ڈیوائس، بچوں کی بصارت کے لئے کتنی خطرناک؟ ماہرین نے بتادیا

موبائل فون اور انٹرنیٹ دور جدید کی چند ایسی اہم ایجاد ات میں سے ہے جس نے انسانی زندگی کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی واضح طور پر سامنے آرہے ہیں۔

صحت کے ماہرین بارہا اس خطرے سے آگاہ کرچکے کہ مسلسل اور زیادہ دیر تک کمپیوٹر اور موبائل فون کی اسکرین دیکھنے سے بچوں میں دور کی نظر کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، حالیہ تحقیق نے اس پر مہر ثبت کی ہے۔

ماہرین نے جو نتائج اخذ کئے وہ آنکھوں کے حوالے سے انتہائی پریشان کن ہے، ماہرین کا کہنا ہے بچوں میں اسمارٹ فون کا استعمال بڑھ جائے تو ان کی دور کی نگاہ متاثر ہونے کا خطرہ تیس فیصد تک بڑھ جاتا ہے لیکن اگر اسمارٹ فونز کے ساتھ ساتھ کمپیوٹرز اسکرین کا استعمال بھی کیا جائے تو یہ خطرہ اسی فیصد تک جانے کے امکانات ہیں۔

محققین نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ایسے معاملات رہے تو ہوسکتا ہے کہ دو ہزار پچاس تک آدھی دنیا کمزور بینائی کا شکار ہوجائے، یا پھر بینائی سے محرومی کے مختلف مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ ڈیوائسز بچوں کی صحت کے لیے خطرہ تو نہیں بن رہیں؟

دوہزار انیس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تجویز کیا کہ دو سال سے کم عمر کے بچوں کو اسکرین نہیں دیکھنی چاہیے۔،عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا کہ دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیےاسکرین دیکھنے کا وقت ایک گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اسی سال برطانوی خاندانوں کے سروے سے پتہ چلا کہ بچے ہفتے میں اوسطا 23 23 گھنٹے اسکرین کو دیکھتے ہوئے گزار رہے ہیں۔

آنکھوں کے پروفیسر اور مطالعہ کے شریک مصنف رابرٹ بورن نے کہا کہ کم بینائی صحت سے متعلق بڑی تشویش ہے جو تیزی سے بڑھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالعہ ابھی تک اس مسئلے پر سب سے زیادہ جامع ہے اور بچوں اور نوجوانوں میں اسکرین ٹائم اور مایوپیا کے درمیان ممکنہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں