The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے مختلف شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ

لاہور: صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ صوبے بھر میں نئی پابندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت مختلف شہروں راولپنڈی اور گجرات کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاہور کے 16، راولپنڈی کے 4 اور گجرات کے 17 علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا جائے گا۔

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق علاقہ مکینوں کی نقل و حرکت محدود ہوگی، ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔

سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ کاروباری مراکز شام 6 بجے بند کردیے جائیں گے۔

صوبے میں ہفتہ اور اتوار کو کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور 29 مارچ تک نافذ العمل رہے گا۔

سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہنا ہے کہ تمام میڈیکل سروسز، فارمیسیز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریاں اور کلیکشن پوائنٹس 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کھلے رہیں گے۔

گروسری اسٹورز، جنرل اسٹورز، چکیاں، پھل سبزی کی دکانیں، تندور اور پٹرول پمپس کو پورا ہفتہ 24 گھنٹے کھلا رہنے کی اجازت ہو گی۔

سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ٹائر پنکچر شاپس، فلنگ پلانٹس، ورک شاپس، اسپیئر پارٹس شاپس اور زرعی مشینری و آلات کی دکانیں بھی 24 گھنٹے کھلی ہوں گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری و نجی دفاتر 50 فیصد اسٹاف کے ہمراہ کام کرنے کی پالیسی پر کاربند ہوں گے۔ لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں تمام انڈور اور آؤٹ ڈور میرج ہالز، کمیونٹی سینٹرز اور مرکیز 15 مارچ سے مکمل طور پر بند ہوں گے۔

لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں ریستوران اور کیفیز میں انڈور ڈائننگ سختی سے منع کردی گئی ہے صرف ٹیک اویز کی اجازت ہوگی۔

مذکورہ شہروں میں کسی بھی سماجی و مذہبی تقریبات میں صرف 50 افراد کو شامل ہونے کی اجازت ہوگی، زیادہ آبادی والے بڑے 7 شہروں کے علاوہ باقی اضلاع میں 300 سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہوگی۔

نوٹیفیکشن کے اطلاق کے بعد تمام مزارت، درگاہیں اور سنیما ہالز بھی مکمل طور پر بند ہوں گے، تمام تفریحی مقامات اور پارکس شام 6 بجے بند کر دیے جائیں گے۔

محکمے کے مطابق ضلعی انتظامیہ پابندیوں کو صوبہ بھر میں نافذ کروانے کے لیے پولیس کے ساتھ رابطے میں رہے گی، عوام کو زندگی معمول پر لانے کے لیے حکومت پنجاب کا ساتھ دیتے ہوئے ایس او پیز کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

سیکریٹری کا مزید کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ پابندیاں لگانے سے کرونا وائرس کی متوقع تیسری لہر پر بر وقت قابو پالیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں