تازہ ترین

اپنی آئی ڈی کو ہیک ہونے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟

اسمارٹ فون صارفین ہوشیار ہوجائیں، سائبر کرائم میں ملوث عناصر اب لوگوں کو لُوٹنے کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کررہے ہیں۔

سائبر مجرمان مصنوعی ذہانت کو لوگوں کے سائبر سیکیورٹی تحفظ کو غیر محفوظ کرنے کے ساتھ، گمراہ کن معلومات پھیلانے یا کارپوریٹ نیٹ ورک میں رسائی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

سائبر سیکورٹی ماہرین کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نے صارفین سے نجی معلومات حاصل کرنے کیلیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا ہے اور کلوننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے کسٹمر سروس کے نمائندوں کی آواز نکال کر فراڈ کرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’شام رمضان‘ میں سائبر سیکورٹی ایکسپرٹ محمد سعد جمانی نے اس طرح کے حملوں سے محفوظ رہنے کے متعلق ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیپ فیک میں وائس کلوننگ بہت زیادہ خطرناک ہے، جو لوگوں کو باآسانی دھوکہ دے سکتی ہے، اس میں دو طرح کی اے آئیز ہوتی ہیں پہلی وہ جو آواز کو جنریٹ کرتی ہے اور دوسری وہ جو آواز کے اصلی یا نقلی ہونے کا تعین کرتی ہے۔

Artificial

سعد جمانی نے بتایا کہ سائبر مجرمان اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں لیکن فی الحال اس کا کوئی توڑ سامنے نہیں آسکا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں عوامی سطح پر آئی ٹی سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کی جارہی لوگ اپنے پاسورڈز کا محفوظ طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جو سافٹ وئیر جتنا پرانا ہوگا یا اسے اپڈیٹ نہیں کیا گیا ہوگا تو سائبر کرمنلز کیلئے اسے ہیک کرنا اتنا ہی آسان ہوگا، صارفین کو چاہیے کہ اپنے پاسورڈز کو وقتاً فوقتاً تبدیل کرتے رہیں اور اپنی آئی ڈی کو ہر جگہ کھول کر نہ چھوڑیں۔

Comments

- Advertisement -