ہفتہ, مئی 18, 2024
اشتہار

مہک بخاری : برطانوی انفلوئنسر اور اس کی والدہ کو کیا سزا سنائی گئی ؟؟

اشتہار

حیرت انگیز

لندن : برطانوی عدالت نے دو نوجوانوں کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر سوشل میڈیا انفلوئنسر مہک بخاری اور اس کی والدہ عنصرین بخاری سمیت چار مجرمان کو عمر قید کی سزا سنادی۔

لیسٹر کی عدالت نے مہک بخاری کو کم از کم 31 سال 8 ماہ کی عمر قید اور اس کی ماں انصارین کو کم از کم 26 سال اور نو ماہ کی عمر قید کی سزا سنائی۔ ان کے علاوہ جن دو مجرمان کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ان میں ریحان کاروان اور رئیس جمال بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ملزمہ نتاشہ اختر کو 11 برس قید، امیر جمال کو 14 برس آٹھ ماہ جبکہ صناف گل مصطفیٰ کو 14 برس نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

- Advertisement -

کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ عنصرین اور مقتول حسین کے درمیان گزشتہ تین سال سے ناجائز تعلقات تھے، جب عنصرین بخاری نے تعلقات ختم کرنے کی کوشش کی تو حسین نے دھمکی دی کہ وہ اس کے شوہر کو ویڈیوز سمیت تمام حقیقت بیان کردے گا، عنصرین نے حسین کے رشتے کے دوران خرچ کی گئی رقم واپس کرنے کی پیشکش کی اور اسے ملاقات کیلئے بلایا۔

مہک بخاری

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عنصرین اور مہک بخاری چھ دیگر افراد کے ساتھ ہیملٹن، لیسٹر میں ٹیسکو کار پارک میں ہونے والی میٹنگ میں پہنچے جس کے بعد حسین اپنی کار میں کار پارک میں پہنچا جسے اس کا دوست اعجاز الدین چلا رہا تھا۔

ٹکر اتنی شدید تھی کہ حسین کی گاڑی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور ان کا انجن گاڑی سے الگ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے سے پہلے دونوں متاثرین متعدد زخمیوں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔

انسپکٹر مارک پیرش نے کہا کہ یہ ایک وحشیانہ اور بے رحمانہ واردات تھی جس نے دو افراد کی جان لے لی۔ جج کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے کیس کو ’سفاکانہ قتل‘ قرار دیا ہے جو کہ درست ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ثاقب حسین اور ہاشم اعجاز الدین (دونوں کی عمر 21 سال) کی ایک ٹریفک حادثے میں موت واقع ہوگئی تھی۔

اگست 2023 کے آغاز میں مہک بخاری اور اس کی والدہ عنصرین بخاری سمیت سات افراد کو عدالت نے 21 سالہ ثاقب اور ہاشم کو فروری 2022 میں منصوبہ بندی کے تحت سڑک کے حادثے میں ہلاک کروانے کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔

ان ملزمان کے علاوہ جیوری نے ریحان کاروان اور رئیس جمال نامی ملزمان کو بھی قتل میں ملوث قرار دیا تھا جبکہ برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ نتاشا اختر، لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ امیر جمال اور 23 سالہ صناف غلام مصطفیٰ کو قتل کے الزام سے تو بری کر دیا تاہم انہیں غیر ارادی قتل میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ملزمہ نتاشہ اختر کو 11 برس قید، امیر جمال کو 14 برس آٹھ ماہ جبکہ صناف گل مصطفیٰ کو 14 برس نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں