The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان میں پانی کی قلت: سابق وزرائے اعلیٰ سپریم کورٹ میں پیش

اسلام آباد: بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سابق وزیر اعلیٰ سے استفسار کیا کہ بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئی ہیں، آپ نے کیا اقدامات کیے؟ عبد المالک بلوچ نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر کے بغیر کچھ درست نہیں ہوسکتا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں صوبہ بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سابق وزرائے اعلیٰ ثنا اللہ زہری اور عبد المالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے صوبے میں پانی کی صورتحال سے مطمئن ہیں؟ بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئی ہیں، آپ نے کیا اقدامات کیے؟

انہوں نے کہا کہ بجٹ کا ایشو مت بتائیے گا کہ پیسہ نہیں ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ عبد المالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی۔ لا اینڈ آرڈر کے بغیر کچھ درست نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان میں پانی ختم ہو رہا ہے۔ آپ اپنی حکومت میں پانی کی قلت ختم کرتے، لوگوں کو پانی فراہم کر دیتے۔ آپ اپنے 5 سالہ دور میں صحت، تعلیم اور پانی پر اپنے اقدامات بتائیں۔ عدلیہ بلوچستان کے حالات سے متعلق کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟

عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جن لوگوں نے کام کیا عدالت ان کی ستائش کرے۔ جن لوگوں نے کام نہیں کیا ان کی سرزنش کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ نہیں ملتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سیاسی بات نہیں کرتے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پانی کے لیے بجٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں رکھا گیا۔ ہم نے بڑے اور چھوٹے ڈیمز پر کام شروع کیے تھے۔ کچھ ڈیمز مکمل اور کچھ پر کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کا ڈیم 35 فیصد مکمل ہوچکا ہے جبکہ گوادر ڈیم کا تعمیراتی کام بھی مکمل ہوچکا۔

سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 سے 2015 تک جرائم کی شرح میں کمی ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ان دنوں ہزارہ برادری کے قتل عام میں کمی ہوئی؟ جس پر عبد المالک بلوچ نے کہا کہ 258 قتل کی وارداتیں کم ہو کر 48 پر آگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو فرقہ واریت سے 248 افراد ہلاک ہوئے۔

عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ کہ سابق آئی جی کو بلا کر پوچھ لیں میں نے پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں کی۔ تعلیم کے بجٹ کو 4 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد تک کردیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے میں 6054 اسکولوں کی دیوار اور ٹوائلٹ نہیں ہیں۔

عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ابھی بھی کئی علاقوں میں شر پسند موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ دونوں آئی جی ایف سی کو بلالیں۔

سابق وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے کہا کہ ہمارے دور میں حالات بہتر ہوتے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے لا اینڈ آرڈر کو بہتر کیا۔ ’5 بجے کے بعد لوگ گھروں میں چلے جاتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ سریاب کے علاقے میں لوگ جا نہیں سکتے تھے۔ سریاب کا نام لوگوں نے فضائی مٹی رکھ دیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے امن و امان سے متعلق جنوبی اور شمالی آئی جیز فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کو جمعہ طلب کرلیا۔

پانی کی قلت سے متعلق کیس کی مزید سماعت کل شام 7 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سفارشات کے ساتھ حاضری یقینی بنائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں