The news is by your side.

سام سنگ کے وائس چیئرمین کیلئے صدارتی معافی کا اعلان

سیئول: جنوبی کوریا کے صدر نے رشوت ستانی کے الزام میں سزا پانے والے ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کے وائس چیئرمین جے وائی لی کیلئے معافی کا اعلان کردیا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر نے گزشتہ روز سام سنگ کے وائس چیئرمین جے وائی لی، لوٹے گروپ کے چیئرمین شنگ ڈونگ سمیت تقریبا 1 ہزار 700 افراد کیلئے معافی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کاروباری شخصیات سمیت دیگر افراد کیلئے معافی کا اعلان کوریا کے یوم آزادی کے موقع پر کیا ہے، ان تمام افراد کو 15 اگست کو صدارتی معافی دی جائے گی۔

قبل ازیں رپورٹس سامنے آئی تھی کہ صدر کی جانب سے 81 سالہ سابق صدر لی میونگ باک کے لیے بھی معافی کا اعلان کریں گے، تاہم حتمی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔

جنوبی کورین صدر نے امید ظاہر کی کہ کاروباری افراد کو دی جانے والی خصوصی معافی سے ملکی معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کی وجہ سے مشکلات کا شکار عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں اور تاجروں سمیت ہمارے معاشرے کے کمزور افراد کو دوبارہ کام کرنے کا موقع ملے گا جس سے ان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے۔

دوسری جانب معافی کے اعلان پر جے وائی لی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے آغاز کا موقع فراہم کرنے پر شکریہ، اب ہم معاشرے کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

صدر کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد جے وائی لی کے لیے کمپنی کو سنبھالنے کا راستہ کھل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سام سنگ نے دو نئے فولڈ ایبل فونز متعارف کرادیے

خیال رہے کہ جے وائی لی کو 2021 میں رشوت ستانی کے الزامات کے تحت 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، انہیں 19 ماہ قید کی سزا کاٹنے کے بعد گزشتہ برس پیرول پر رہا کردیا گیا تھا۔

2017 میں جے وائی لی اس وقت کے جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ رشوت، کرپشن اور دھوکا دہی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

یاد رہے کہ جے وائی لی کو سام سنگ کے کاروباری مفادات کے لیے سابقہ صدر پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے، کورین عدالت نے 2017 میں انہیں جرم ثابت ہونے پر 5 سال قید کی سزا سنائی تھی، لیکن 2019 میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک نئے مقدمے کی سماعت کا حکم دیا۔

عدالت نے نئے مقدمے کی سماعت کے بعد جے وائی لی کو 2021 میں رشوت ستانی کے الزامات کے تحت ڈھائی سال کی سزا سنائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں