یورپ میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 37 افراد ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

یورپ میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 37 افراد ہلاک

یورپ میں خسرہ کی خوفناک وبا پھوٹ پڑی جس سے صرف 6 ماہ میں 37 افراد ہلاک ہوگئے۔ یورپ بھر میں خسرہ کے 41 ہزار کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں خسرہ کی وبا میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سال رواں کے صرف 6 ماہ میں اتنے کیسز سامنے آئے جتنے گزشتہ پوری دہائی میں سامنے نہیں آئے تھے۔

ادارے کے مطابق تقریباً نصف کیسز جن کی تعداد 23 ہزار ہے صرف یوکرین میں ریکارڈ کیے گئے۔

دوسری جانب فرانس، جارجیا، یونان، اٹلی اور روس میں 1، 1 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔

خیال رہے کہ خسرہ ایک متعدی بیماری ہے جو مریض کے کھانسنے یا چھینکے سے بھی پھیل سکتی ہے۔

خسرہ کے لیے سنہ 1960 سے ایک ہی ویکسین استعمال کی جارہی ہے، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس ویکسین کا درست استعمال نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے یہ مرض پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامت بخار کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جس کے بعد چہرے اور گردن پر سرخ دانے نمودار ہوتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ اس بیماری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تاہم بچوں کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں