site
stats
اے آر وائی خصوصی

خلاؤں میں خوش قسمتی ڈھونڈتا بدقسمت انسان

Stephen Hawking

وہ ہاسٹل کے کمرے میں سر جھکائے کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔ آج مسلسل تیسرا روز تھا ‘ جب اس کی گرل فرینڈ اس سے ملنے آئی تھی اور وہ ملنے نہیں گیا تھا ۔ وہ اب تک اُس لڑکی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا ۔ اپنی اِس نیم مفلوج ٹانگ کے ساتھ وہ کس طرح اُس پیاری ، معصوم سی لڑکی سے جاکر ملتا جس کی جھیل سی گہری آنکھوں میں محبت کے دیپ جلے ابھی کچھ ایسا زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا تھا ۔ وہ جلد مجھے بھول کر کسی اور کو ساتھی چُن لے گی۔

اُس نے سرجھٹک کر سامنے ٹیبل پر پڑی کتاب اٹھائی ہی تھی کہ دروازہ بہت زور سے کھلا اور ہاسٹل قوانین کی پرواہ کیئے بغیر جَین اُس کے کمرے میں موجود تھی۔ ہاکنگ گھبرا کر تیزی سے اٹھا ۔ پھر لڑکھڑایا ‘ جِین اپنی جگہ ساکت تھی۔

“چلی جاؤ! پلیز چلی جاؤ‘ میری زندگی سے ہمیشہ کے لیئے چلی جاؤ ۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا “۔۔وہ آنسوؤں کے درمیان بہت زور سے چلایا ۔۔

مگر جَین وہیں اپنی جگہ کھڑی رہی ۔۔اور پھر وقت نے دیکھا کہ جین وائلڈ اگلے چھبیس برس تک ہاکنگ کا ساتھ نبھاتی رہی ۔ شدید اعصابی مرض کے باعث ہاکنگ کے اعضاء ایک ایک کر کےناکارہ ہوتے گئے،اس کی زندگی سے کامیابیاں ، امنگیں اور خوشیاں بھی ان کے ساتھ رخصت ہوتی گئیں ‘ مگر جین کسی آہنی چٹان کی طرح پے در پے آنے والے طوفا نوں کا مقابلہ کرتی رہی ۔ ہاکنگ کے پاس زندگی کی طرف واپس لوٹنے کے لیے کچھ بھی تو نہ بچا تھا ۔مگر جین جانتی تھی ، اُس کے پاس بہترین دماغ تھا ۔”اور دماغ یقیناًٌ ہر انسانی عضو کا بادشاہ ہے”۔

اکیس برس کی عمر میں سٹیفن ہاکنگ پر پہلی دفعہ’ایمیو ٹراپک لیٹیرل سکیلیروسز ‘ نامی مرض کا حملہ ہوا جس میں مریض کے تمام آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ، یہ صرف مریض ہی کے لیے نہیں اس کے عزیز واقارب کے لیئے بھی ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے جس میں انسان سسکتے ہوئے بہت بےبسی سے موت کی طرف بڑھتا ہے ۔ڈاکٹرز کے اندازوں کے مطابق وہ صرف دو برس اور جی سکتا تھا ۔

اُس کے والدین نے گہری تشویش میں کیمبرج یونیورسٹی رابطہ کیا کہ’’آیا وہ اپنا پی ایچ ڈی مکمل کر سکے گا تو یونیورسٹی کا جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا مگر اِس بالشت بھر کے انسان نےجس کی کُل کائنات ایک ویل چیئر اور اُس پر نصب چند کمپیوٹر سسٹمز اور ایک سکرین ہے،نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔۔ وہ آج زندگی کی پچھتر سے زائد بہاریں دیکھ چکا ہے اور اب بھی ستاروں پر کمندیں ڈالنےکے خواب دیکھتا ہے۔وہ جس کی پوری زندگی بذاتِ خود ایک معجزہ ہے وہ نا معجزوں پرایمان رکھتا ہے نا ہی پوری طرح خدا کے وجود پر ۔اگرچہ وہ مقدر کا سکندر ہے مگر وہ تقدیر کے لکھے پر یقین نہیں رکھتا اس کا استدلال ہے ۔

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی کے ابتدائی ایام


“میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ تقدیر کے اَٹل اور نا قابلِ تغیر ہونے پر پختہ ایمان رکھتے ہیں وہ بھی سڑک پار کرتے ہوئے دائیں بائیں ضرور دیکھتے ہیں”۔ سٹیفن ولیم ہاکنگ ۸ جنوری ۱۹۴۲ کو فرینک ہاکنگ اور آئزوبیل ہاکنگ کے ہاں جنم لینے والا پہلا بچہ تھا ۔ اسی تاریخ کو تقریباٌ تین سو سال قبل مشہورِز مانہ ماہرِ طبیعات “گلیلیو گلیلی “کی وفات ہوئی تھی ۔ درحقیقت گلیلیو ہی وہ پہلا سائنسدان تھا جس کی تحقیق اور قوانین سے کائنات کے سر بستہ راز وں کے پردے چاک کرنے کا آغاز ہوا ، جسے انتہاء پر سٹیفن ہاکنگ نے پہنچایا۔

بچپن میں اس کا شمار کچھ زیادہ ذہین طالبعلموں میں نہیں ہوتا تھا ۔پڑھائی کے بجائے وہ ریل گاڑیاں ، راکٹ اور جہاز بنانے میں دلچسپی رکھتا اورفار غ اوقات میں اپنے گھر کے پچھواڑے گھنٹوں تنہا بیٹھ کر آسمان کو تکا کرتا ۔ اس نے ابتدائی تعلیم سینٹ البان سکول اور یونیورسٹی کالج آکسفورڈ سے حاصل کی۔ ہاکنگ کے والدین بھی آ کسفورڈکے فارغ التحصیل تھے ۔۔ فرینک ہاکنگ ٹراپیکل ڈیسزپر ریسرچ کر رہے تھے اور انکا ارادہ اسے بھی میڈیسن میں بھیجنے کا تھا ، مگر انکی توقع کے بر خلاف اُس نے میتھ میٹکس کو ترجیح دی ۔۔چونکہ اس وقت تک آکسفورڈ کالج میں میتھ میٹکس کی ڈگری نہیں تھی سو ہاکنگ نے اپنے لیئے تھیوریٹیکل فزکس کا انتخاب کیا ۔بظا ہر ہونق سے نظر آنے والے ہاکنگ کو صنفِ نازک ہی نہیں عموماٌ اسا تذہ بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتےتھے۔

 

Stephen Hawking

اس میں خود اعتمادی کی اس قدر شدید کمی تھی کہ جب وہ آکسفورڈ میں سکالر شپ کا امتحان دینے گیا تو اتنا زیادہ نروس تھا کہ پریکٹیکل امتحان بھی صحیح طرح نہیں دے پایا ۔۔ اس صورتحال میں وہاں داخلہ ممکن نہ تھا سو مایوس ہوکر ہاکنگ کہیں اور قسمت آزمائی کا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک روز اسے سکالر شپ لیٹر موصول ہوا۔ یہ اس پر قدرت کی مہربانیوں کا آغاز تھا ۔مستقبل میں بھی بارہا ایسا ہوتا رہاکہ جب کبھی وہ مایوسیوں کے اندھیروں میں غرق ہوکر فنا ہونے کو تھاتوکہیں نہ کہیں سے آس اور امید کے در وا ہوکر اُسے زندگی کی طرف واپس لاتے رہے۔

ہاکنگ کے سفر کا زینہ – جین


اُس نے کیمبرج یونیورسٹی میں تحقیق کے لیے فلکیات کا شعبہ منتخب کیا جو فی الوقت وہاں علاقۂ غیر سمجھا جاتا تھا اور بہت کم طالب علم اس میں طبع آزمائی کی ہمت کر پاتے تھے ۔ یہیں پہلے سال کے دوران اُس کی طبیعت گری گری رہنے لگی ،کئی دفعہ وہ سیڑھوں سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا ۔۔تب سٹیفن ہاکنگ پر یہ خوفناک انکشاف ہواکہ وہ ایک ایسے موذی مرض میں مبتلا ہے جس سے مسلز کو کنٹرول کرنے والے اعصاب آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس بیماری سے ہمت اور بہادری کے ساتھ لڑنے میں اس کے والدین کے علاوہ جین وائلڈ کا بھی کافی ہاتھ رہا۔

ہاکنگ کا کہنا ہے کہ ایک طرح سےیہ بیماری میرے لیے گڈ وِل چارم ثابت ہوئی ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ زندگی مجھے اور کتنا وقت دینے والی ہے سومیں نے ہر میسر لمحے کو پوری طرح استعمال کیا کہ جب کبھی کسی بے رحم لمحے میں موت اپنے آہنی پنجوں کے ساتھ میری طرف بڑھے تو میری آنکھوں میں کوئی نا تمام حسرت نہ ہو۔ 1965 میں جین وائلڈ کے ساتھ اس کے شادی بھی ایک ایسا ہی سمجھوتا تھی، اگرچہ جین اس سے سچی محبت کرتی تھی مگر اسے شادی کرتے وقت علم تھا کہ یہ ساتھ محض ایک ، دو یا چند برسوں کا ہے ۔جس میں ہاکنگ کی خطرناک بیماری کے باعث کچھ ناگوار اور نا پسندیدہ موڑ آنے کابھی خدشہ موجود تھا مگر وہ دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے اس باہمت شخص کی آخری خواہشات پوری کرنے کا پختہ ارادہ کر چکی تھی اور اس کی قربانی رائیگاں نہیں گئی ۔

Stephen Hawking

جین کے ساتھ ،محبت اور توجہ نے ہاکنگ کو بڑا سہارا دیا اور چند برسوں تک اعصابی بیماری جیسے تھم سی گئی۔۱۹۶۸ میں ان کے ہاں پہلے بچے “رابرٹ “کی پیدائش ہوئی تو جیسے زندگی کو جینے کا نیا مفہوم ملا پھر ایک سال بعد ننھی “پری لوسی “نے آکر تو جیسےکائنات ہی مکمل کردی ۔ اَسی سال بلیک ہولز پر اس کی ریسرچ کو سراہتے ہوئے اُسے انسٹیٹیوٹ آف ایسٹرانامی کیمبرج کی اعزازی رکنیت سے بھی نوازا گیا ۔ اتنی ڈھیر ساری خوشیوں نے اسے جینے کا نیا ولولہ عطا کیا اور آہستہ آہستہ جسم پر بیماری کا اثر کم ہوتا چلا گیا ۔یہ ہاکنگ کے عروج کا آغاز تھا اور آج لگ بھگ چھیالیس سال بعد بھی زندگی کے کسی بھی دشوار ترین دور ، کسی بھی اذیت ناک لمحے میں اُسے زوال کا منہ دیکھنا نہیں پڑا ۔

بیماری کی شدت


مگر اگلے ہی برس ایک دفعہ پھر اس پر بیماری کا شدید حملہ ہوا ، جس سے اس کا نچلا دھڑ اور ٹانگیں اس قدر متاثر ہوئیں کہ وہ یونیورسٹی جانے کے لیے وھیل چیئر استعمال کرنے لگا ۔ ہاتھوں میں ریشہ اس قدرتھا کہ وہ ہاتھ سے ایک چھوٹی سی ایپلیشن بھی لکھنے سے قاصر تھا ، سوکبھی جَین اور کبھی اس کا کوئی یونیورسٹی فیلو ریسرچ پیپرز ٹائپ کر دیا کرتے تھے ۔انہی کی مدد سے اس نے پہلی کتاب “زمان و مکاں کا تصوراتی ڈھانچہ “تحریر کی ،اگرچہ اس کتاب کو مستقبل میں شائع ہونے والی سٹیفن ہاکنگ کی کتابوں کی نسبت زیادہ پزیرائی حاصل نہیں ہوئی، پھر بھی بلیک ہولز کے خدوخال کے متعلق جو نظریات ہاکنگ نے اِس میں متعارف کروائےاس سےطبیعات اور خاص طور پر فلکیات کے حلقوں میں اسے زبردست شہرت حاصل ہوئی۔۔اور تب ہی “ہاکنگ ریڈییشنز “کی اصطلاح وجود میں آئی ۔ اور اُس کے بعد اِس منہنی سے شخص نے پھر مڑ کر نہیں دیکھا ۔

زندگی اُس پر پے در پے ستم توڑتی چلی گئی مگر قسمت ہمیشہ مہربان رہی ۔۔۱۹۸۵ میں سرن میں ایک کانفرنس کے دوران سٹیفن ہاکنگ نمونیا کا شکار ہوا ۔اور چند ہی رو ز میں اس کے حالت اتنی بگڑ گئی کہ ڈاکٹر اس کی زندگی کی طرف سے مایوس ہو کر وینٹی لیٹر ہٹانے لگے تھے ۔مگر جَین کا وجدان کہتا تھا کہ ہاکنگ کو ابھی اور بہت سارے سال جیناہے اس نے فوری طور پر ہاکنگ کو ایڈن بروک ہاسپٹل کیمبرج منتقل کروایا ۔۔ جہاں ڈاکٹر نے ایک بڑا رسک لیتے ہوئے اس کی سرجری کا فیصلہ کیا ۔اِس آپریشن سے پہلے بھی ہاکنگ کی گویائی اتنی متاثر ہو چکی تھی کہ صرف اُس قریب رہنے والے لوگ ہی اس کی بات سمجھ پاتے تھے ،پھر بھی دنیا سے رابطے کا ایک ٹوٹا پھوٹا ہی سہی سہارا تو تھا ۔وہ اپنے سیکرٹری کی مدد سے ریسرچ پیپر لکھوا لیا کرتا تھا ،کانفرنس اور سیمینارز میں اسے ترجمہ نگار کی سہولت فراہم کی جاتی تھی جو اُس کے بے ربط جملوں کو قابلِ مفہوم بناتا ۔مگر اِس آپریشن کے بعدگویا دنیاسے رابطے کا آخری در بھی بند ہو گیا تھا۔

مایوسی کے افق کے اس پار


ہاکنگ جتنی ہمت کرتا تھا ز ندگی اس کے لیے اتنا ہی بڑا اور کھٹن امتحان لیکر آتی تھی ۔ایک عرصے تک وہ اپنے گھر کے بیڈ روم ،تو کبھی لاؤنج میں اپنی وہیل چیئر پر بیٹھ کر خلاؤں میں تکتا رہا۔ رات میں جب کبھی شدید ڈپریشن میں کھلے آسمان تلے جا کر بیٹھتا تو اَن گنت ستارے ، سیارے ، سیارچے اور کہکشائیں اس کے گرد رقص کرنے لگتیں ۔وہ ہاکنگ کو کائنات کے انوکھے نغمے ، اَ ن کہی داستانیں سناتے لیکن ظالم وقت نے اس سےدنیا سےرابطے کا آخری وسیلہ بھی چھین لیا تھا ۔

اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں رہا تھا جس سے وہ دنیا کو آسمانوں کی وہ مخفی کہانیاں سنا سکے ، جو اسے بہت واضح دکھائی بھی دیتی تھیں اور سنائی بھی ۔جَین سے اس کی یہ حالت چھپی نہیں ہوئی تھی‘ راتوں کو جب ہاکنگ گھر کے آنگن میں تنہا بیٹھا ستاروں کو تکا کر تا تو اندر بیڈ روم میں جین کا تکیہ آنسوؤں سے بھیگتا رہتا ۔

Stephen Hawking

مایوسی کے انہی گھٹاٹوپ اندھیروں میں ایک روز جَین اُس کے پاس سپیل کارڈلیکر آئی جس پر انگریزی کے حروف واضح درج تھے ۔ہاکنگ ان حروفِ تہجی کو آنکھ کے اشارے سے منتخب کرکے الفاظ اور جملے بناتا ۔ لیکن اس طریقۂ کار سے سامنے والے کے لیے اس کی بات سمجھنا ایک دشوار گزار عمل تھا ۔زندگی اسے ہرانے پر مصر تھی مگر وہ ہار ماننے پر تیار نہیں تھا ،اسے جینا تھا اور بہت کچھ کرکے جینا تھا ۔ بڑھتی ہوئی مالی پریشانیوں نے جَین کو بہت چڑ چڑا کر دیا تھا ۔تین بچوں کا ساتھ اور ایک معذور شخص ۔ ہاکنگ سے اس کی یہ حالت پوشیدہ نہیں تھی سو بہتر مستقبل کی تلاش میں وہ کچھ عرصے بعد انگلینڈ سے کیلیفورنیا منتقل ہو گئے ۔اگرچہ جین کو ا بتدا میں اس فیصلے پر اعتراض تھا مگر بعد میں کیل ٹیک ( کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ) کی طرف سے جو سہولیات ہاکنگ کو فراہم کی گئیں وہ ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئیں۔

یہاں قسمت ایک دفعہ پھر ہاکنگ پر مہربان ہوئی ،کیمبرج کے ڈیوڈ میسن نے اس کی الیکٹرک چیئر اپ ڈ یٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ایک سپیچ سینتھی سائزرکے ساتھ ایک کمپیوٹر سکرین اس چیئرمیں نصب کی گئی جس کے ذریعے وہ ابتدا میں فی منٹ تین الفاظ منتخب کرسکتا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوچوں کو الفاظ میں ڈھال کر کمپیوٹر کی ڈسک میں سیو کرنے کی سہولت بھی اسے میسر آگئی تھی ۔یہ طریقۂ کار سٹیفن ہاکنگ آج تک دنیا کی ناموریونیورسٹیز اور سیمینارز میں لیکچرز دینے کے لیے استعمال کرتا ہے اگرچہ جو آواز سینتھی سائزرنشر کرتا ہے وہ اس کی قدرتی آواز سے مکمل مشا بہہ نہیں ہے مگر یہ اس کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور ہاکنگ کا ٹریڈ مارک سمجھی جاتی ہے۔ حالات کچھ بہتر ہوتے ہی سٹیفن ہاکنگ نے بگ بینگ پر ایک کتاب لکھنے کابیڑا اٹھایا ۔ مگر میں ایک بڑا مسئلہ حسابی فارمولوں اور مساواتیں لکھنے کا تھا کیونکہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے لکھنے سے قاصر تھا ۔بعض اوقات اس پر اتنی شدید مایوسی طاری ہوجاتی کہ وہ سنجیدگی سے خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا مگر جین اور اس کے دوست ہمہ وقت اس کی ہمت بندھاتے رہے انہی کی معاونت سے اسے “لیٹکس “نامی ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام مل گیا جس کے ذریعے وہ ہر طرح کے فارمولے اور مساواتیں لکھ سکتا تھا ۔”

معرکتہ الآراء تصانیف


اگرچہ وہ اب تک خدا کی مدد پر یقین نہیں رکھتا مگر خدا بار بار حالات کی سختی کو گھما کر اس کی طرف لاتا رہا ہے کہ شاید کبھی اس کا ایمان پختہ ہوجائے ،ہاکنگ آج تک انسانیت اور سائنس کے لیئ جو کچھ کر پایا ہے بظاہر وہ سائنس کا کرشمہ نظر آتا ہے ،مگر در حقیقت یہ ہر اس ذی شعور کے لیے قدرت کا ایک جیتا جاگتا شاہکار ہے جو ٹیکنالوجی سے متا ثر ہو کر ملحد بنتا جا رہا ہے “۔ انہی حالات میں اس کی دوسری کتاب “وقت کا سفر “شائع ہوئی اور کاسمولوجی کی دنیا میں اِ س کتاب نے تہلکہ مچا دیا ۔

یہ کتاب مسلسل چارسال تک “لندن سنڈے ٹائمز” کی بیسٹ سیلر لسٹ پر رہی ۔ اس کی آج تک چالیس ملین کاپیز فروخت ہو چکی ہیں اور اردو سمیت چالیس سے زائد زبانوں میں اِس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ حالانکہ یہ “زمان و مکاں” اور “ٹائم ٹریول “کےموضوع پر لکھی گئی ایک مشکل ترین کتاب ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے،اِس کے باوجود اس کے اگلے ایڈیشنز بھی بیسٹ سیلر لسٹ میں شامل رہے۔ “وقت کا سفر ” کے پیچیدہ ترین اور ہمہ گیر موضوع سے قطعۂ نظر اِسے ایک ایسے شخص نے لکھا تھا جو پوری طرح اپنے ہاتھوں کو جنبش بھی نہیں دے سکتا ۔

ہاتھ سے لکھنے والے شاید اندازہ کر سکیں کے اِس شخص نے ایک ایک لفظ کمپیوٹر سکرین پر منتخب کرکے یہ دقیق کتاب کس طرح لکھی ہوگی ، اگرچہ اُس وقت ہاکنگ اپنی انگلیوں کو جنبش دے سکتا تھا لیکن اِس کے بعد شائع ہونے والی اپنی تمام کتابیں اُس نےگالوں اور مسلز کی حرکت کی مدد سے لکھی ہیں۔

Stephen Hawking

اس کا دعویٰ ہے کہ عام آدمی دو یا تین سمتوں میں چیزوں کو پرکھتا ہے ،جب کہ وہ گیارہ سمتوں میں پرکھنےکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اِس گیارہ سمتوں والے تصور کو ہاکنگ نے ۲۰۱۰ میں شائع ہونے والی اپنی معرکتہ الاآرا کتاب”دی گرینڈ ڈیزائن ” میں انتہائی دلچسپ طریقے سے بیان کیا ہے ۔اگرچہ اِس کتاب پر رومن کیتھولک چرچ اور پادریوں کی طرف سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے کہ سٹیفن ہاکنگ نوجوان نسل کو بھٹکا کر اُن میں دہریت کو فروغ دے رہا ہے مگر وہ آج تک اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے ،ہاکنگ خدا کے وجود کا پوری طرح منکر نہیں ہے لیکن وہ آفاقی قدرتی قوانین کو جس پیرائے میں بیان کرتا ہے وہ عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہیں۔

وقت کا دھارا بہتا رہا 1975، کے بعد جوں جوں سٹیفن ہاکنگ کے اعضاء اُس کا ساتھ چھوڑتے گئے ،زندگی اُس پر کامیابیوں کے اُتنے ہی دَر وا کرتی گئی ۔انٹیل کارپوریشن نے اس کی وہیل چیئر کے کمپیوٹر سسٹم کو ایک دفعہ پھر اپ ڈیٹ کیا ۔کیونکہ اب انگلیوں کی جنبش بھی ہاکنگ کا ساتھ چھوڑ چکی تھی ۔تب سے آج تک وہ گالوں اور چہرے کے خدوخال کی حرکت کی مدد سے کمپیوٹر سکرین آپریٹ کرتا ہے ۔بڑھتی عمر اور ہمہ روز کی بیماروں نے اس کے چہرے کے خدوخال کو بہت متاثر کیا ہے‘اس کا چہرہ ایک جانب ڈھلک چکا ہے۔ “لیکن اس کا دماغ آج پہلے سے زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے”۔

جین سے جدائی


ایک سیلیبریٹی ! راک سٹار سائنٹسٹ کا امیج رکھنے کے با وجود سٹیفن ہاکنگ کی ذاتی زندگی کچھ ایسی خوشگوار نہیں رہی ۔اگرچہ جَین ہاکنگ ایک بلند حوصلہ خاتون تھی ، جس نے ہر کھٹن وقت میں ہاکنگ کا بھر پور ساتھ نبھایا ۔ اِس عورت نے اپنی بھرپور جوانی کے پچیس سال ایک ایسے شخص کے ساتھ نبھاتے گزار دیئے جس کے اپنے اعضاء اس کا ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے ۔لیکن ہاکنگ محسوس کرنے لگا تھا کہ جَین اب تھک چکی ہے ۔ جین اور ہاکنگ کی غیر معمولی محبت اور ایثار کو اس کی زندگی پر بنا ئی جانے والی فلم ” تھیوری آف ایوری تھنگ ” میں بہت خوبصورت انداز میں فلمایا گیا جو ایک خون کے آنسو رلا دینے والی داستان ہے ۔ ان دونوں کا مشترکہ دکھ ،جب زندگی سسکتی رہی اور زمانے کے نشیب و فراز میں ان کی محبت کہیں خلاؤں میں گم ہو گئی ۔

فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب وہ ایک دوسرے کی شکل سے بیزار تھے سو 1991میں ان کی علیحدگی اور چار سال بعد باقاعدہ طلاق ہو گئی ۔جین آج کسی اور کی شریک حیات ہے مگر وہ اب بھی ہاکنگ کے دل کے نہاں خانوں میں رہتی ہے۔ اگرچہ ایک سال بعد ہاکنگ بھی اپنی نرس کےساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گیا تھا مگر بد قسمتی سے یہ بندھن بھی زیادہ عرصے نہ چل سکا ۔۔اور ۲۰۰۶ میں اُن کی طلاق ہو گئی ۔

اسٹیفن ہاکنگ کی شخصیت اور ان کے اقوال


سٹیفن ہاکنگ کی شخصیت اتنی متنوع اور ہمہ گیر ہے کہ اُسے الفاظ کے کوزے میں بند کرنا بہت مشکل ہے ۔وہ ہر روز ایک نئے عزم کے ساتھ جاگتا ہے ،ہر طلوع ہوتا سورج اُس پر کائنات کے کچھ اور نئے ، اچھوتے پوشیدہ رازوں کو آشکا رکرتا ہے۔اس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے اُسے ایک “راک سٹار “کا امیج دیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہر سلیبریٹی کی ایک خاص وجۂ شہرت ہوتی ہے اور میری پہچان میری یہ وہیل چیئر ہے ۔ میں اس وھیل چیئر کے ساتھ ہر میسر لمحے سے بھرپور لطف اٹھاتا ہوں کیونکہ میرا یقین ہے کہ زندگی سے اگرتفریح اور مزاح کو نکال دیا جائے تو پھر باقی کچھ بھی نہیں بچتا ۔

Stephen Hawking

وہ خود بھی ہنستا ہے ،اوروں کو بھی ہنساتا رہتا ہے ۔اسے دوسروں کے دکھ سمیٹ کر اُن کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا کمال فن آتا ہے۔ کبھی وہ کسی کامیڈی شو میں اپنی جھلک دکھلاتا ہے تو کبھی ٹی وی چینلز پر دنیا کے نامور سائنسدانوں کے ساتھ مباحثوں میں شرکت کر کے ایک عالم پر اپنی قابلیت کی دھاک بٹھاتا نظر آتا ہے ۔

سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں تو یقیناٌ اِس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے ،، لیکن اپنے پیاروں اور ارد گرد کے لو گوں سے ترس کی توقع کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کیجئے ،جسمانی معذوری کو نفسیاتی مسئلہ بننے سے روکیے ۔ مثبت طرزِ فکر اپنائیے ۔خود کو حتی الامکان حد تک مصروف رکھیئے اور زندگی کی آزمائشوں کو چیلنج سمجھ کے قبول کیجئے۔آج میں پچھتر برس کی عمر میں بالکل آسودہ اور مطمئن ہوں میں نے کبھی زندگی سے لڑنے کی کوشش نہیں کی ، یہ جو ستم مجھ پرتوڑتی گئی میں نے ہمیشہ انہیں خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔ زندگی میرے لیے بیک وقت بہت مہربان بھی رہی اور ظالم بھی ،مگر میں نے لوگوں کے رویوں پر آنسو بہانے کے بجائے خودکو اِس قابل بنایا کہ “آج ایک عالم کائنات کے سربستہ رازوں کی گھتیاں سلجھانے کے لیے مجھ سے رجوع کرتا ہے”۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top