موسمِ بہار کے بجائے برف باری ‘ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ -
The news is by your side.

Advertisement

موسمِ بہار کے بجائے برف باری ‘ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟

سال 2018 کو کئی حوالوں سے غیر معمولی سمجھا جارہا ہے ، ایک طرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ماہرین ارضیات وارننگ جاری کر چکے ہیں کہ اس برس زلزلے زیادہ تعداد میں اور شدت سے آئیں گے تو دوسری جانب ماہرین ِ موسمیات نے 1978-1979 کے بعد 2018 کو سرد ترین سال قرار دیا ہے ۔

بلاشبہ دنیا بھر میں تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں میں ایک اہم کردار ” ایل نینو ” کے اثرات نے ادا کیا ہے ، یہ نام بحرالکاہل کے پانیوںمیں غیر معمولی درجۂ حرارت کے اضافے کو دیا گیا ہے ۔ یہ عمل سال میں ایک یا دو دفعہ رونما ہوتا ہے جب بحرالکاہل کا پانی آخری حد تک گرم ہوکر بہت زیادہ توانائی ماحول میں خارج کر کےدنیا بھر میں موسمیاتی بگاڑ لاتا ہے۔ یہ ہواؤں کا رخ الٹ کر ،بادل اور طوفانِ بادو باراں کے سسٹم مشرق کی طرف منتقل کر دیتا ہے جس سے وہاں طوفانوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اسی کے باعث دنیا بھر میں سمندری اور برفانی طوفانوں کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

پچھلے برس موسم ِ گرما میں جہاں امریکی ریاستیں کئی سمندری طوفانوں کے باعث غرق ِ آب ہوئیں تو اب 2018 کے اوائل میں برطانیہ کو شدید برفانی طوفان کا سامنا ہے جس کے باعث ‘ گذشتہ روز وہاں کے میٹرولوجیکل آفس کی جانب سے ‘ایمبر وارننگ’ جاری کی گئی ہے جس کا مطلب شدید جانی و مالی نقصان لیا جاتا ہے ۔ اس طوفان کا باعث بننے والا موسمیاتی سسٹم بحرلکاہل پر ہوا کے نہایت کم دباؤ کے باعث پیدا ہوا ، اور پرتگال اور سپین سے ہوکر شمال مغربی فرانس کے راستے برطانیہ تک پہنچا اور اس کے بعد وہاں اگلے چند دن میں منجمد بارش متوقع ہے ۔

مشرق سے مغرب تک تباہ کن سیلاب اور طوفان، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بحر ِ اوقیانوس شمال اور جنوب سے امریکی ریاستوں اور مشرق میں یورپ اور افریقہ تک پھیلا ہوا ہے ، جبکہ جنوب میں یہ آبنائے ڈریک کے ذریعے بحرالکاہل سے بھی ملا ہوا ہے ، سو اس کے پانیوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی غیر معمولی تحریک یا اثرات براہ ِ راست بحرالکاہل پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ ایل نینو میں تاخیر کے باعث گذشتہ برس ستمبر میں ‘برائن ‘ نامی ایک طوفان سے جس سلسلے کا آغاز ہوا تھا جو 2018 میں بھی وہ جاری رہے گا اور حالیہ دنوں میں برطانیہ میں جو برفانی طوفان تباہی مچائے ہوئے ہے وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے

اسے ابتدا میں ‘ فائی یون ‘ کا نام دیا گیا تھا جب کہ جمعے کو سکاٹ لینڈ اور لندن کو جس نئے طوفان کا سامنا ہے اسے ‘اما ‘ نام دیا گیا ہے ۔ اور اس کے بعد ‘ جارجیا ‘، ‘اوکٹاویا’ اور وینی فریڈ نامی طوفان متوقع ہیں جو اگلے چند ماہ میں یورپ اور برطانیہ میں نظام ِ زندگی مفلوج کرنے کا باعث بنیں گے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں صرف انہی طوفانوں کو باقاعدہ نام دیئے جاتے ہیں جن کے لیئے میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایمبر یا ریڈ وارننگ جاری کی جاتی ہے اور یہ ایک ، دو یا کئی روز تک وسیع علاقے میں جانی و مالی نقصان کا سبب بنتے ہیں ۔

اس برفانی طوفان اما کو برطانیہ میں رونما ہونے والا گذشتہ پچاس سالوں کا خطرناک ترین بر فانی طوفان قرار دیا جارہا ہے اور جمعے کی شام تک اندازا ََ دو فٹ یا پچاس سینٹی میٹر برف باری متوقع ہے ۔ فی الوقت یہاں منفی 22 سینٹی گریڈ تک درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ لا محالہ جو مزید برفانی بارش کے بعد کچھ اور درجے تک گر جائے گا اور پھر شدید ٹھنڈ میں پورے کے پورے شہر وسط مارچ تک برف کی گہری تہوں میں دبے رہیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں