The news is by your side.

Advertisement

کہانیاں کیسے شفا بخشتی ہیں؟ جانیے

’’روایت ہے کہ ایک بار تین چار انگریز ڈاکٹروں کے جی میں آیا کہ کسی دور افتادہ افریقی گاؤں چلتے ہیں، جا کر دیکھیں تو سہی کہ اہلِ قریہ بیماروں کا علاج کس طرح کرتے ہیں اور تیمار داری کا کیا انداز اپناتے ہیں۔

وہاں پہنچے تو یہ جان کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ علاج معالجے کو صرف دو افراد کا آپس کا معاملہ کوئی نہیں سمجھتا۔ یہ نہیں کہ ایک طرف طبیب اور دوسری طرف مریض۔ اور باقی لوگوں کو اس مسئلے سے یا تو کوئی سروکار نہیں یا اگر ہے بھی تو برائے نام۔ اس کے برعکس پورے کا پورا قبیلہ گا بجا کر، ناچ کر، کہانیاں سنا کر، دعوتیں اڑا کر علاج میں حصّہ لیتا ہے۔ اپنے درمیان سے بیماری دور کرنے کا یہ طریقہ نہ صرف انوکھا تھا بلکہ بڑی حد تک اجتماعی عمل تھا۔ گویا اہلِ قبیلہ کو اس مشترکہ کارروائی سے یہ جتانا مقصود تھا کہ اگر ہم میں سے ایک شخص بیمار ہے تو ہم سب بیمار ہیں اور اگر ہم میں کوئی آدمی طبیب ہے تو ہم سب طبیب ہیں اور جب مریض ہی معالج ہے اور معالج مریض تو ہم سب مل جل کر اپنا علاج آپ کریں گے۔

کیا مذکورہ بالا ماجرے کو قصہ گوئی کے فن یا فنونِ لطیفہ کی معالجانہ توظیف کی اتفاقی مثال سمجھا جائے؟ ایسی بات بالکل نہیں۔ برونو بیٹل ہائیم نے اپنی کتاب The Uses of Enchantment میں لکھا ہے کہ پری کہانیاں باطنی کیفیتوں، الجھنوں اور انتشار کو، ان کی کایا بدل کر، ظاہر کا لباس پہنا دیتی ہیں۔ چنانچہ جب یہ داخلی کیفیات کہانی کے افراد اور واقعات کا روپ دھار کر سامنے آتی ہیں تو ان کی تفہیم ممکن ہو جاتی ہے۔

بیٹل ہائیم کے بقول یہی وجہ ہے کہ روایتی ہندو طریقِ علاج میں نفسیاتی اختلال کے شکار آدمی کو نسخے کے طور پر کوئی ایسی پری کہانی تجویز کی جاتی تھی جس میں اس کی مخصوص الجھن کو افسانوی شکل دی گئی ہو، اس توقع پر کہ کہانی کو پڑھنے اور اس کے بارے میں سوچتے رہنے سے ذہنی اختلال میں مبتلا شخص کی الجھن واضح شکل اختیار کرنے لگے گی۔

کہانی پڑھنے سے پہلے وہ یہ محسوس کرتا رہا تھا کہ کسی ایسی جگہ آ پھنسا ہے جہاں سے باہر جانے کا راستہ کوئی نہیں۔ لیکن کہانی سمجھ میں آتے ہی اسے پتا چلے گا کہ یہ احساس کیوں طاری ہوا تھا اور در پیش مشکل سے نمٹنے کے لیے عمل کی کیا کیا راہیں اس کے سامنے ہیں۔ بھول بھلیاں میں ٹکراتے پھرتے آدمی کے حق میں کہانی ایسی ستلی بن جاتی ہے جس کے سہارے چل کر وہ بھٹکتے رہنے کی اذیت سے آزاد ہو سکتا ہے۔

اگر ہم دیکھنا چاہیں کہ کہانیاں کیسے شفا بخشتی ہیں تو اس کی ایک عمدہ مثال الف لیلہ و لیلہ کی صورت میں ہمارے پاس ہے۔ کہانیوں کے اس سلسلے کا آغاز ہوتے ہی پتا چلتا ہے کہ بیوی کی بے محابا بدکاری کے باعث شہریار نامی بادشاہ صنفِ نازک سے متنفر ہو چکا ہے۔ جب اس پر انکشاف ہوا کہ بھائی کی بیوی بھی کچھ کم بد چلن نہیں تو اس کے تعقل کی بنیادیں متزلزل ہو گئیں اور اسے ذہنی مریض بنتے دیر نہ لگی۔ ہر رات وہ کسی باکرہ لڑکی سے ہم بستر ہوتا اور صبح اٹھ کر اسے قتل کرا دیتا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سلطنت میں ایسی باکرہ لڑکی کوئی نہ بچی جو شاہی سیج کے لائق ہو۔ جب بحران نے اپنی انتہا کو چھو لیا تو وزیرِ مملکت کی بیٹی شہر زاد سامنے آئی۔ وہ اس بے مقصد خوں ریزی کو ختم کر کے بادشاہ کا ذہنی توازن بحال کرنے کا عزم کر چکی تھی۔

اس کا طریقِ علاج جتنا سادہ تھا، اتنا ہی پُر لطف بھی۔ وہ ہر رات، مسلسل ایک ہزار اور ایک رات، یکے بعد دیگرے کہانیاں سناتی گئی۔ رات ختم ہونے پر کہانی ادھوری رہ جاتی اور بادشاہ کو اشتیاق ہوتا کہ باقی کہانی بھی سنے۔

کہانیوں کے طلسم کا اسیر ہو کر وہ شہر زاد کی جان لینے سے باز رہتا۔ شہر زاد کی ترکیب کام کر گئی۔

آخرش ہوش مندی کا بول بالا ہوا اور بادشاہ کے مزاج میں جو وحشت سما گئی تھی وہ جاتی رہی، لیکن خیال رہے کہ بادشاہ نے تقریباً تین برس تک کہانیوں کو بغور سنا۔ کہیں جا کر اس کی شکستہ و ریختہ شخصیت کی از سر نو شیرازہ بندی ممکن ہو سکی۔ گویا کہانیاں سنا کر آئی کو ٹالا جا سکتا ہے۔

اس موضوع کو الف الیلہ میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بغداد کے حمال اور تین لڑکیوں کی طویل افسانہ در افسانہ داستان میں حمال، تین کانے درویشوں، خلیفہ اور اس کے وزیر اور جلاد کی جان بخشی اس امر سے مشروط ہے کہ پہلے وہ اپنی اپنی سرگزشت سنائیں گے اور اگر ان کی آپ بیتیاں سچ مچ بہت ہوش ربا ثابت ہوئیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ کانے درویشوں کی کہانیاں اتنی حیرت انگیز تھیں کہ ان سب کی جان بچ گئی۔‘‘

(ممتاز ادیب، شاعر، مترجم اور مضمون نگار سلیم الرّحمٰن کی تحریر سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں