The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے حوالے سے پاکستانیوں کیلیے حوصلہ افزا خبر

اسلام آباد : پاکستان میں ہردسویں شہری میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا، مریضوں کےقریب رہنے والے افراد میں اینٹی باڈیز زیادہ پائی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل سیروپریویلنس اسٹڈی میں 11فیصد پاکستانیوں میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا انکشاف ہوا، سیرو پریویلنس اسٹڈی کا انعقاد ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے کیا گیا

وزارت صحت نے کہا ریسرچ ڈبلیوایچ او، اے کیومیڈیکل یونیورسٹی کے تعاون سےکی گئی ، ہیلتھ سروسزاکیڈمی نے ریسرچ اسٹڈی کا انعقاد گزشتہ ماہ کیا ، ریسرچ 25 ممالک میں ڈبلیوایچ اوکی یونٹی اسٹڈی کاحصہ تھی، ریسرچ میں شہریوں میں کورونااینٹی باڈیزکی شرح کوجانچاگیا ، ریسرچ اسٹڈی میں کہا گیا کہ متواتر ہاتھ دھونے سے کورونا کا پھیلاؤروکنا ممکن ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ 11فیصد پاکستانیوں میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پائی گئی، ہر دسویں شہری میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز موجود ہیں، مریضوں کےقریب رہنے والے افراد میں اینٹی باڈیز زیادہ پائی گئیں۔

تحقیق کے مطابق دیہاتوں کی نسبت شہروں میں کورونا اینٹی باڈیز کی شرح بلند ہے، کورونا اینٹی باڈیزکی شرح نوجوانوں میں بلند پائی گئی، بچوں اور بوڑھوں میں کورونا اینٹی باڈیز کی شرح کم پائی گئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا کی ممکنہ دوسری لہر بوڑھے افراد کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے، جولائی میں70 فیصد شہریوں نے ہاتھ دھونے اور ماسک کا استعمال کیا، مستقبل میں کم قوت مدافعت والے علاقے کورونا کیلئے ہائی رسک ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ کورونا کے ہائی رسک علاقوں میں سائٹ سرویلنس بڑھانےکی ضرورت ہے، دیہی اضلاع میں کورونا سےمتعلق طبی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے، کورونا کا پھیلاؤ جانچنے کیلئے تواترسے سیروپریویلنس سروے کا انعقاد ناگزیر ہے۔

وزارت صحت نے کہا کہ کورونا اینٹی باڈیز پرتحقیق کے نتائج فیصلہ سازی میں استعمال ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں