The news is by your side.

Advertisement

گزشتہ حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سبسڈی دی: آئی ایم ایف مشن چیف

اسلام آباد: حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سبسڈی دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ 7 ویں جائزہ مذاکرات مفتاح اسماعیل کی قیادت میں دوحہ میں ہوئے، سات روزہ مذاکرات کا اختتام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر اگلی قسط جاری کرنے سے انکار پر ہوا۔

جائزہ مذاکرات میں مالی سال 2022 کی مالیاتی صورت حال اور نئے مالی سال 2023 کے لیے تجویز کردہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایم ایف نے ایندھن اور بجلی پر سبسڈی واپس لینے پر زور دیا، اور مالیاتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت حال پر اظہار تشویش کیا، آئی ایم ایف نے کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارے میں اصلاحات کی نشان دہی بھی کی۔

آئی ایم ایف کا پیٹرول مہنگا کیے بغیر قرض دینے سے انکار

آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا کہ سبسڈی گزشتہ حکومت کی جانب سے دی گئی تھی، یہ سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دی گئی، اس لیے ایندھن اور بجلی پر سبسڈی واپس لی جائے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ن لیگی حکومت پروگرام لینے میں ناکام رہی ہے، آئی ایم ایف نے قسط بجلی، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے سے مشروط کر دی ہے، جس پر ن لیگ تذبذب کا شکار ہو گئی ہے۔

تاہم، آئی ایم ایف اور پاکستان نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جب کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کو پرانا قرار دیتے ہوئے نئے پروگرام کے اجرا کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں