The news is by your side.

Advertisement

سوڈان میں مارشل لاء نافذ، ملک چلانے کے لیے عبوری کونسل تشکیل، صدرگرفتار

خرطوم : سوڈانی صدر عمر البیشر  30 سال بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے او فوج نے ملکت کے امور سنبھال کر عبوری کونسل تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سوڈانی عوام گزشتہ تین مہینوں نے صدر عمر البشیر کے خلاف مظاہرے کررہے تھے جو آج رنگ لے آئے اور صدر عمر حسن البشیر صدارت سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد انہیں فوج نے گرفتار کرکے نظر بند کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوج نے ملک کے انتظامی امور چلانے کے لیے جنرل عوض بن عوف کی سربراہی میں ایک عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے، جنرل عوض سبک دوش ہونے والے صدر عمر البشیر کے نائب اول اور سوڈان کے وزیر دفاع ہیں۔

خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت خرطوم کے ہوائی اڈے کو پروازوں کی آمد و ورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک میں اقتدار کی تبدیلی کے حوالے سے سوڈانی فوج کی جانب سے ایک اہم بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ فوج نے سبکدوش صدر عمر البشیر کے ساتھ ساتھ ان کے قریب سمجھے جانے والے 100 افراد کو بھی گرفتار کیا ہے جن میں کئی موجودہ اور سابق سرکاری عہدے داران بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سابق وزیر دفاع عبد الرحیم محمد حسین، نیشنل کانگریس پارٹی کے نامزد سربراہ احمد ہارون اور صدر عمر البشیر کے سابق نائب علی عثمان محمد کے علاوہ عمر لابشیر کے ذاتی محافظین شامل ہیں۔

دوسری جانب خرطوم میں مزید مظاہرین فوج کی جنرل کمان کے صدر دفتر کے اطراف پہنچ رہے ہیں جہاں کئی روز سے عوامی دھرنا جاری ہے، اس دوران بعض شاہراہوں پر عوام کو عمر البشیر کے مستعفی ہونے پر جشن مناتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں : سوڈان میں حالات مزید کشیدہ، چارافراد ہلاک، فوج نے کرفیو لگا دیا

یہ بھی پڑھیں : انقلاب کے گیت گاتی سوڈانی خاتون جدوجہد کا استعارہ بن گئی

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری ریڈیو نے جمعرات کی صبح بتایا تھا کہ مسلح افواج کی جانب سے ایک اہم بیان جاری کیا جائے گا، اس دوران ملک میں فوجی انقلاب واقع ہونے کی بھی خبریں موصول ہو رہی تھیں۔

یاد رہے کہ سوڈانی عوام گزشتہ کئی ماہ سے اشیاء خورد و نوش میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے تھے احتجاج کے دوران درجنوں شہری ہلاک بھی ہوئے جبکہ مظاہروں کے دوران ایک خاتون اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئیں جب انہوں نے انقلاب کے نعرے بلند کیے اور بدعنوانی اور مہنگائی کا شکار عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں