The news is by your side.

Advertisement

ذیابیطس کے مریض ناشتے میں کیا لیں ؟

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ناشتے کو دن بھر کی "بہترین غذا” تسلیم کیا جاتاہے کیونکہ یہ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس حوالے سے محققین کی رائے ہے کہ ناشتہ چھوڑنا صحت مند افراد میں بھی ذیابطیس ٹائپ ٹو کے خطرات دگنے کردیتا ہے۔

صبح کے اوقات میں ذیابطیس کے مریضوں کا بلڈ شوگر لیول بڑھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ ان کا لبلبہ رات بھر شوگر کی مقدار کو توڑچکا ہوتا ہے۔

جس کے نتیجے میں صبح کے اوقات میں خلیات مناسب مقدار میں انسولین بنانے سے قاصر ہوتے ہیں تاہم ناشتے کے بعد مریضوں کا بلڈ شوگر لیول بڑھ سکتاہےجو دوپہر کے کھانے کے بعد دگنا بھی ہوسکتا ہے۔

ذیابطیس کے مریض ناشتے میں کیا کھائیں ؟

چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو ناشتے میں ایک مخصوص غذا کا استعمال مختلف پیچیدگیوں کا خطرہ کم کرنے اور زیادہ عرصے تک زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ہربن میڈیکل یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس جبکہ رات کو سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ کاربوہائيڈريٹ آپ کی غذا ميں شامل غذائی مادے کا نام ہے جو خون ميں شکر کی سطح کو متاثر کرتا ہے۔

کاربوہائيڈريٹ کے بہت سے مختلف ذرائع ہيں:

نشاستے دار غذائيں جيسے کہ چاول، چپاتی، پاستا، آلو، نان، نوڈلز، رتالو اور ناشتے والے سيريل پھل شکر والی غذا اور مشروبات دودھ اور دہی نشاستے دار سبزياں جيسے پھلياں اور دالیں وغیرہ

اس تحقیق میں ذیابیطس کے4642 مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی مانیٹرنگ 11 سال تک کی گئی تھی۔

تحقیق میں ان افراد کی غذائی عادات کا موازنہ کیا گیا جبکہ وقت کے ساتھ خون کی شریانوں کے امراض اور کسی بھی وجہ سے موت کی شرح کو بھی جانچا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور سبزیاں جیسے آلو کو دن کے آغاز میں کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اسی طرح دوپہر میں سالم اناج اور رات کو سبز پتوں والی سبزیاں کھانے والے ذیابیطس کے مریضوں کو بھی یہی فائدہ ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں رات کو زیادہ مقدار میں پراسیس گوشت کھانا امراض قلب سے موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ غذائی اشیا کے استعمال کا وقت ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین کی حساسیت کے قدرتی حیاتیاتی ردھم سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ذیابیطس کے لیے غذائی رہنمائی اور مرض کی شدت بڑھنے سے روکنے میں مددگار حکمت عملیوں میں غذاؤں کے استعمال کے مثالی وقت کے اضافے کو بھی ہدف بنایا جانا چاہیے۔

تحقیق کے نتائج سابقہ تحقیقی رپورٹس کو سپورٹ کرتے ہیں جن کے مطابق ذیابیطس کے مریض کی صحت اس وقت زیادہ بہتر رہنے کا امکان ہوتا ہے جب وہ رات کے کھانے کی بجائے ناشتے میں زیادہ مقدار میں غذا کا استعمال کریں۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی جرنل آف کلینکل اینڈوکرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں