site
stats
اہم ترین

خود کش حملے حرام ہیں، علماء کا مشترکہ فتویٰ جاری

اسلام آباد: پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف تمام مکاتب فکر کے علماء ایک ہوگئے اور مشترکہ فتویٰ جاری کردیا جس میں خودکش حملوں اور مذہبی انتہا پسندی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی،انتہا پسندی کے خلاف تمام مکاتب فکر یک زبان ہوگئے، علماء کے متفقہ فتویٰ میں خود کش حملے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

مشترکہ فتویٰ میں علما نے پاکستان کے خلاف مسلح محاذ آرائی اور فساد کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خود کش حملوں کی ترغیب دینے والے باغی ہیں اور ایسے عناصر ملک کے قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں جن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

تقریب میں صدرِ مملکت ممنون حسین نے بھی شرکت کی اور علما کے کردار کو سراہا، مشترکہ فتویٰ پر مفتی رفیع عثمانی، مفتی منیب الرحمان اور مفتی نعیم سمیت 31 علماء نے دستخط کیے۔

ویڈیو دیکھیں

بعد ازاں اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم کہا کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے کفار کو جمع کر کے میثاق مدینہ پر دستخط کیے اور سب کو امن و امان کےلیے کردار ادا کرنے کا درس دیا‘‘۔ اسی بات کی روشنی میں تمام علماء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ پاکستان  میں ہونے والی مذہبی انتہاء پسندی اور خودکش حملے حرام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاد کے نام پر دہشت گردی کی جارہی ہے جبکہ دونوں میں بہت فرق ہے، ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر نقصان پہنچا رہے ہیں اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو ایسے لوگوں سے دور رکھا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top