کمسن بچوں میں خودکشی کے اسباب اوران کا تدارک -
The news is by your side.

Advertisement

کمسن بچوں میں خودکشی کے اسباب اوران کا تدارک

گزشتہ روز شہرِ قائد میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، فیڈرل بی ایریا میں واقع ایک نجی اسکول کے طالب علم نے زندگی کے ان دنوں میں اپنی جان دینے کافیصلہ کیا جن دنوں میں کوئی انسان جینے کے لیے نئے نئے مقاصد تلاش رہا ہوتا ہے، آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کوئی کمسن ذہن خودکشی پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس کے سدباب کے کیا طریقے ہیں؟۔

حبیب اللہ کی عمر 11 سال تھی ، پانچویں جماعت کے اس طالب علم نے اسکول کی بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی، ذرائع کا کہنا ہے کہ بچہ شوگرکا مریض بھی تھا۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اسکول انتظامیہ بچے کے والدین کے ساتھ تعاون نہیں کررہی اور تاحال انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی گئی۔

شوگر کے مریض تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، یہ حالتیں کسی بھی شخص کو خودکشی کی جانب مائل کرسکتی ہیں

ڈاکٹر روحی افروز

یقیناً یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ اسکول جہاں والدین اپنے بچے کو یہ سوچ کر چھوڑ کرجاتے ہیں کہ یہاں گزارے ہوئے وقت کے دوران ان کا بچہ اچھی تعلیم او رتربیت حاصل کرکے معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنے گا، وہیں ایسا سانحہ پیش آجائے۔ یقیناً اسکول کے اوقات میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ انتظامیہ کو اس حادثے سے بری الذمہ قرار دیا جائے۔ ابھی تو یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا یہ خودکشی تھی یا قتل کی واردات ہے۔

جب تک اس کیس کی تحقیقات آگے بڑھتی ہیں ، ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کے سبب کوئی کم عمر یا ٹین ایجر بچہ اس حد تک دلبرداشتہ ہوجاتا ہے کہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائے۔

کم عمربچوں میں خودکشی کے بنیادی اسباب


دنیا کے نامور ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ کم عمر بچوں میں خود کشی کرنے کی وجوہات انتہائی کم ہوتی ہیں اور اگر کوئی بچہ خودکشی کررہا ہے تو اس کے لیے حالات یقیناً اس کے ارد گرد موجود افراد نے پیدا کیے ہیں۔

اسکول میں بدمعاشی کا نشانہ بننا

ہم میں سے اکثر اپنی اسکول لائف میں بڑے طالب علموں کی جانب سے بدمعاشی کی حد تک برے رویے کا سامنا کرچکے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جس اسکول میں ہم اپنے بچے کو بھیج رہے ہیں وہاں طرح طرح کے خاندانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچےآتے ہیں۔

ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کہیں کوئی بدمعاش آپ کے بچے کو بدمعاشی کا نشانہ تو نہیں بنا رہا۔ بعض بچے اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ ایسے واقعات پر اگر ان کی سنوائی نہ ہو تو موت کو گلےلگانا بہتر سمجھتے ہیں۔

اچھے اسکول میں داخلہ نہ ملنا

بعض بچوں کے والدین ان کی تعلیم کو لے کر حد سے زیادہ سنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ عموماً پرائمری کے بعد ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بچہ کسی اچھے اسکول میں داخل ہوجائے۔ اگر بچہ ایسے اسکولوں کا امتحان پاس کرنے میں ناکام ہوجائے تو والدین نادانی میں بچے کو طنز و تشنع کا نشانہ بناتے ہیں ، جس سے بچے کی شخصیت مسخ ہوجاتی ہے، یہ بھی بچوں کو خودکشی پر راغب کرنے کا سبب بنتا ہے۔

بہن بھائیوں کا برا برتاؤ

بعض گھروں میں بہن بھائیوں کے آپسی رویے پر توجہ نہیں دی جاتی اور ایسے ماحول میں کوئی ایک بچہ جو بہت زیادہ بولڈ نہیں ہوتا ، اپنے بہن بھائیوں کے برے رویے کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بہن بھائیوں کے خراب رویے خاندان میں تفریق کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات کچھ بچے اس حد تک دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں کہ خودکشی کرلیتے ہیں۔

کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا

یہ رویہ عموماً ان بچوں میں نشونما پاتا ہے جہاں الگ خاندان کا رواج رائج ہے ، اور ماں باپ فکر ِ معاش میں بدحال اپنے بچے پر توجہ نہیں دے پارہے ہوتے۔ ایسے ماحول میں بچے کے اندر شدت سے تنہائی کا احساس ابھر آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس بھری دنیا میں اسے پیار کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ احساس کبھی کبھار اس قدر توانا ہوتا ہے کہ بچہ خود کشی پر مائل ہوجاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ گاہے بگاہے بچے کو گلے لگا کر ، اسے پیار کرکے احساس دلائیں کہ آپ اس سے کتنا پیار کرتے ہیں۔

جنسی یا جسمانی تشدد

اگر کوئی بچہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوا ہے یا اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے تو یاد رکھیے ایسا بچہ شدید خطرے میں ہے ۔تشدد بالخصوص جنسی تشدد بچے کے ذہن میں انتہائی منفی خیالات کو فروغ دیتا ہے اور یہ خیالات بچے کو خودکشی کی جانب راغب کرتے ہیں۔

برے والدین

بچے پالنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری ہے، شادی کے بعد جوڑوں کو چاہیے کہ پہلے ایک دوسروں کو سمجھیں اور اپنے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں، اسکے بعد بچے پیدا کرنے کا سوچیں ۔ جن والدین میں ہم آہنگی نہیں ہوتی اور وہ آپس میں ہر وقت آمادہ پیکار رہتے ہیں، تو لازمی امر کے بچے میں اس جنگ میں نشانہ بنتے ہیں۔ بعض اوقات اس سلسلے میں بچوں کو دونوں جانب سے تشد د کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ والدین کے خراب رویے بچے میں خود کشی کے خیال کو مہمیز کرتے ہیں۔

احساس کمتری

بعض رشتوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ دکھاوے کو ہی صحیح لیکن ہم اپنے بچے پر کسی دوسرے کے بچے کو ترجیح دے دیتے ہیں، یا اپنے بچے کے سامنے کسی اور کے بچے تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں۔ خبردار ! یہ رویہ آپ کے بچے میں احساس کمتری کو جنم دے گا جو اس کے لیے جینا دشوار کردے گی، والدین کے لیے ان کا بچہ ہی دنیا کا سب سے اہم بچہ ہونا چاہیےاور انہیں اس کا علی اعلان اظہار بھی کرنا چاہیے۔

پسندیدہ شخصیت کی موت

کسی قریبی شخصیت کی موت بھی بچوں کو خودکشی کی جانب راغب کرسکتی ہے ، خصوصاً ٹین ایج میں ایسے معاملات دیکھنے میں آتے ہیں ، ایسے کسی افسوس ناک سانحے کی صورت میں فوری اپنے بچے کو وقت دینا شروع کریں اور اسے زندگی کے معنوں سے روشناس کرائیں۔

بچوں میں خود کشی کی شرح

آپ نے اپنے سرکل میں آخری بار کسی بچے کی خودکشی کے بارے میں کب سنا تھا؟ شاید کئی سال پہلے یا کبھی نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچے خودکشی نہیں کرتے، امریکا میں سنہ 1999 سے لے کر 2015 تک 1309 بچوں نے خود کشی کی، ان بچوں کی عمر 5 سے 12 سال کے درمیان تھی۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خودکشی کو مذہب نے حرام اور بد ترین فعل قرار دیا ہو،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سنہ 2011 میں اقدام خودکشی کے 1،153 اور خودکشی کے 2،131 واقعات پیش آئے ، جن میں اکثریت 30 سال سے کمر عمر افراد کی تھی اور اس میں بھی اکثریت ٹین ایجر تھی، ہر گزرتے سال اس شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

حبیب اللہ کی خودکشی


کراچی نفسیاتی اسپتال سے وابستہ ماہر نفسیات ڈاکٹر روحی افروز نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاحال اس بچے کی خودکشی کے اسباب واضح نہیں ہیں کہ آیا اس پر اسکول کی جانب سے کوئی دباؤ تھا یا گھر کے حالات اس کی خودکشی کا سبب بنے لیکن اس کیس میں اہم بات اس بچے کو شوگر کا مرض لاحق ہونا ہے۔

انہو ں نے بتایا کہ شوگر ایک ایسی بیماری ہے جو ایک جانب تو مریض کو جسمانی طور پر کمزور کردیتی ہے تو دوسری جانب اس کی ذہنی قوت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈاکٹر افروز کے مطابق شوگر کا مریض تناؤ کا شکار ہوتا ہے اور اکثر ڈپریشن کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ یہ دونوں حالتیں ایسی ہیں جو کہ خود کشی کے لیے ماحول تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ایسا مریض اپنی کمزور قوت فیصلہ کے سبب کبھی بھی خود کشی کیجانب مائل ہوسکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر


اسکول کے زمانے میں ہم نے اساتذہ سے سنا تھا کہ بچوں کے سرمیں درد نہیں ہوتا، ایسا ہی کچھ رویہ ہمارا بچوں کے جذبات اور احساسات کے متعلق بھی ہوتا ہے کہ ’بچہ تو ہے اسے کیا پتا‘؟ وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھیے کہ بچوں میں جذبات زیادہ شدید ہوتے ہیں اوربڑوں کی نسبت انہیں زیادہ جذباتی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل تدابیر سے آپ اپنے یا اپنے ارد گرد کے کسی بھی بچے کو خود کشی کرنے سے بچا سکتے ہیں:

بچے کو اس کی اہمیت کا اندازہ کرائیں، اسے بتائیں کہ وہ کتنا اہم اور ضروری ہے، کسی کو بھی اس پر فوقیت حاصل نہیں۔

اپنے بچے سے پیار کا اظہار کریں، اسے چومیں اور گلے سے لگایا کریں، یاد رکھیں گلے لگانا ایک انتہائی سود مند نفسیاتی ٹانک ہے۔

بچے پراسکول اور تعلیم کو مسلط نہ کریں، اگر وہ تعلیم میں کمزور ہے تو اس کی کمزوری کے اسباب معلوم کرکے انہیں دور کرنے پر    کام کریں۔

بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑے سے گریز کریں، انہیں منفی واقعات نہ سنائیں اور نہ ہی ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ایسا مواد دیکھنے دیں۔

بچوں کی تنہائیوں کی حفاظت کریں، خیال رکھیں کہ آپ کا بچہ تنہائی میں کیا کرتا ہے، کیا سوچتا ہے اور کیسے عمل کرتا ہے؟۔ تنہائی کی صورت میں انہیں منفی خیالات میں الجھنے سے بچائے رکھنے کا اہتمام کریں۔

آپ کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو زندگی کے معانی سےر وشناس کرائیں، زندگی کے مثبت اغراض و مقاصد اس کے سامنے رکھیں۔

بچے سے ہر معاملے پر کھل کر گفتگو کریں اور اسے اتنا اعتماد دیں کہ وہ گھر سے باہر خود پر بیتنے والی ہر بات آپ کو بتاسکے۔


یاد رکھیے! بچے تو پھولوں کی طرح نازک ہوتے ہیں ، ان کی حفاظت اور بہترین ذہنی اور جسمانی نگہداشت بحیثیت والدین آپ کی ذمہ داری ہے جس سے آپ اپنی ذمہ داریوں کو آڑ بنا کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے، اگر آج آپ اپنے بچے کی تربیت اور حفاظت کو نظر انداز کریں گے تو خدانخواستہ کل کو پچھتاوا بھی آپ کا مقدر ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں