سن اسکرین سمندری حیات کے لیے نقصان دہ -
The news is by your side.

Advertisement

سن اسکرین سمندری حیات کے لیے نقصان دہ

موسم گرما میں دھوپ سے بچاؤ کے لیے سن اسکرین یا سن بلاک کا استعمال ایک عام سی بات ہے اور یہ ہمارے لیے تو بے ضرر ہے تاہم سمندری حیات کے لیے یہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر آپ ساحل سمندر پر پکنک منانے جارہے ہیں اور جانے سے قبل آپ نے بہت سا سن اسکرین استعمال کیا ہے، تو یاد رکھیں پانی میں جانے کے صرف 20 منٹ کے اندر آپ کی جلد پر لگا آدھے سے زیادہ سن اسکرین پانی میں گھل جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی میں جانے کے بعد یہ سن اسکرین سمندری حیات کے لیے زہر قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سن اسکرین کا سب سے پہلا شکار مونگے کی چٹانیں بنتی ہیں۔

ان چٹانوں کا رنگ اور مخصوص ماحول یہاں رہنے والی آبی حیات کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ ان آبی حیات کو رنگ، آکسیجن اور غذا فراہم کرتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر سال 14 ہزار میٹرک ٹن سن اسکرین ان چٹانوں پر جم جاتا ہے۔

چٹانوں پر جم جانے والے اس سن اسکرین کا وزن 3 ہزار ہاتھیوں کے جتنا ہوتا ہے۔

سن اسکرین میں موجود دھوپ سے بچانے والے کیمیکل یو وی پروٹیکشن میں شامل ایک جز بینزو فنون ان نباتاتی چٹانوں کو سخت کردیتا ہے جس کے باعث یہ مزید افزائش نہیں پاسکتے۔

علاوہ ازیں یہ ایک خوردبینی کائی کو بھی متاثر کرتے ہیں جو ان چٹانوں کی افزائش کے لیے ضروری ہے۔

نتیجتاً یہ چٹانیں اپنا رنگ کھونے لگتی ہیں جس کے بعد ان کے مردہ ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

سن اسکرین کا اگلا شکارفائٹو پلنکٹن نامی کائی بنتی ہے۔ یہ کائی سمندر کی فوڈ چین کا بنیادی جز ہے۔

اس کائی کے متاثر ہونے سے سمندر میں موجود تمام جانداروں کی غذا متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ کی تابکار شعاعیں جلدی کینسر میں بھی مبتلا کرسکتی ہیں چنانچہ سن اسکرین کا استعمال ازحد ضروری ہے تاہم سمندری حیات پر اس کے نقصانات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں