The news is by your side.

Advertisement

ایف اے ٹی ایف کی ایک اور شرط پر عملدر آمد کرلیا گیا

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ایک اور شرط پر عملدر آمد کرلیا، کالعدم تنظیموں اور منسلک افراد کی نشاندہی کے لیے اہم قدم اٹھا لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ایک اور شرط پر عملدر آمد کرلیا گیا، کالعدم تنظیموں اور منسلک افراد کی نشاندہی کے لیے سپروائزری بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔

ایڈیشنل فنانس سیکریٹری خزانہ کو سپروائزری بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف ایم یو حکام بورڈ میں شامل ہیں، جبکہ ڈی جی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو بھی سپروائزری بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے۔

سپروائزری بورڈ نیشنل سیونگ رولز کی خلاف ورزی پر ایکشن لے گا، سپروائزری بورڈ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے فنڈز جمع کرنے سے روکے گا۔

بورڈ قومی بچت اسکیموں میں مشکوک سرمایہ کاری کو بحق سرکار ضبط کر لے گا، بچت اسکیموں میں مشکوک سرمایہ کاری میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

سپروائزری بورڈ مشکوک منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے لیے اسسمینٹ رپورٹ مرتب کرے گا۔

اس سے قبل انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی ایکٹ 2020 منظور کیا گیا تھا فوری نافذ العمل ہوگا، اس ایکٹ کی منظوری کے بعد ایف اے ٹی ایف کا ایک بڑا تقاضہ پورا ہوگیا تھا۔

ایکٹ کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد اور اداروں کو سخت سزائیں ہوں گی اور قومی ادارے مل کر دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مذکورہ ایکٹ سے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں