The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کی حسین حقانی کو وطن واپس لانے کیلئے30 دن کی ڈیڈلائن

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزم  سابق سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لئے30 دن کی ڈیڈلائن دے دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے سوچ رہا ہوں زیرالتوا مقدمات میں میڈیا تبصروں پر پابندی لگادوں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت کی، عدالتی حکم پر سیکریٹری داخلہ اورسیکریٹری خارجہ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تین ہائی کورٹس کے چیف جسٹز نے فیصلہ دیا جسےکوڑے میں پھینک دیا، جس پر ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اسی وقت درج ہوجانا چاہیے تھا جو ابھی درج ہوا۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا بتایا جائے کتنے دن میں کارروائی مکمل کریں گے، ڈی جی ایف آئی اے نے جواب میں کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے وارنٹ جاری کئے ہیں، وارنٹ کراچی اور واشنگٹن میں حسین حقانی کے گھر بھیجیں گے، حسین حقانی نہ آئے تو وکیل کے ذریعے مقدمہ کریں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر تبصرے کیے جاتے ہیں، کہا گیا میموگیٹ کیس پھر سن کر گڑے مردے اکھاڑے جارہے ہیں، ہم گڑے مردے نہیں اکھاڑ رہے بلکہ قانون پر عمل یقینی بنا رہے ہیں، پتہ کچھ ہے نہیں اور قانون و آئین پر تبصرے کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا جنہیں کمنٹس دینے کا بہت شوق ہے، ان کو بلالیتے ہیں، سنجیدگی سے غور کررہا ہوں کیوں نہ زیرالتوامقدمات میں میڈیا تبصروں پرپابندی لگا دوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 3ہائیکورٹ کےچیف جسٹس نےمیموکمیشن پرفیصلہ دیالیکن عمل نہ ہوا اور حکم دیا کہ حسین حقانی کو تیس دن میں وطن واپس لائیں، اس کے بعد کوئی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔


مزید پڑھیں : میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی ملزم سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج


گزشتہ روز سماعت میں سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری خارجہ کو طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دو دن میں کارروائی مکمل کریں زیادہ وقت نہیں دیں گے، یہ پاکستان اور پاکستانی عدالتوں کےوقار کامعاملہ ہے۔ ایک شخص عدالت سے جھوٹ بول کر چلا گیا، کیا ریاست بے بس ہے کہ اسےگرفتار نہیں کر سکتی۔

یاد رہے چند روز قبل سابق امریکی سفیر حسین حقانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ مقدمہ پریڈی تھانے میں وکیل مولوی اقبال حیدر کی مدعیت میں مملکت کے خلاف سازش کی دفعات کے تحت درج کیاگیا تھا۔

واضح  رہے کہ میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا۔

حسین حقانی  پر  یہ  الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا، رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں