The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا، فیصلہ درخواست گزار کے درخواست واپس لینے پر کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق پولیس انسپکٹر راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا ہے، عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی، سرخواست کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پہلے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کیا کوئی درخواست گزار ماورائے عدالت قتل کا براہ راست متاثرہ ہے؟ جس کے جواب میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے والد بھی درخواست گزار ہیں، نقیب اللہ کے قتل پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ راؤ انوار گرفتار ہوئے اور ٹرائل بھی چل رہا ہے عدالت اب مزید کیا کرے؟ راؤ انوار پر 444 ماورائے عدالت قتل کا کیا ثبوت ہے؟ کیا درخواست گزاروں کو قتل ہونے والوں کے نام معلوم ہیں؟

جواب دیتے ہوئے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ سندھ پولیس کے پاس ہے عدالت نوٹس جاری کر سکتی ہے، عدالت انکوائری کرائے سب سامنے آ جائے گا،444قتل کی بات سندھ پولیس کی رپورٹ میں لکھی ہے،۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا نقیب اللہ محسود کے والد زندہ ہیں؟ وکیل نے کہا کہ نقیب اللہ کے والد انتقال کرگئے اب کیس کی پیروی ان کے ورثا کررہے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر قتل ہونے والوں کے نام تک آپ کو معلوم نہیں ، مرنے والوں کا اتنا درد ہے تو ان کے نام بھی معلوم ہونے چاہیے تھے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ فوجداری مقدمات میں اعلیٰ عدلیہ کو احتیاط سے کام لینا چاہیے، عدلیہ کی آبزرویشنز سے فوجداری کیس پربہت اثر پڑتا ہے، جسٹس مشیر عالم نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقدمہ ہے جو سپریم کورٹ پہلے بھی سن چکی، جس پر جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کا کیس تو تب ہوتا جب متاثرہ افراد خود سامنے آتے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں