The news is by your side.

Advertisement

آرٹیکل 63اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ آج شام 5بجے سنایا جائے گا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے آرٹیکل تریسٹھ اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج شام پانچ بجےسنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سےمتعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے اور سوشل میڈیا کی شکایت کرتے ہوئے کہا عدم حاضری پر سوشل میڈیا پر میرے خلاف باتیں ہوئی، جس پر چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے دلائل میں سوال کیا کیا آرٹیکل 63اےایک مکمل کوڈ ہے، کیا آرٹیکل 63اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سےانحراف کر کےووٹ شمار ہو گا؟

اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ عدالت ایڈوائزی اختیارمیں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے، صدارتی ریفرنس اورقانونی سوالات پرعدالت کی معاونت کروں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا اپ کہہ رہے ہیں ریفرنس ناقابل سماعت ہے؟ کیا اپ کہہ رہے ہیں۔کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا۔ بطور اٹارنی جنرل اپ اپنا موقف لے سکتے ہیں تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعطم کی ایڈوائس پر فائل ہوا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے؟ تو اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے بتایا کہ
میراموقف بطور اٹارنی جنرل ہے ، سابق حکومت کامؤقف پیش کرنے کےلیے وکلاموجود ہیں، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرناچاہیے تھا،انونی ماہرین کی رائےمختلف ہوتی توصدر ریفرنس بھیج سکتے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں۔ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے اور سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا۔ تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا ہے، ڈیرھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے، عدالتی آبزرویشنز سے اتفاق نہیں کرتا لیکن در تسلیم خم کرتا ہوں، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ارٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، ارٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں، کیا اپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی، اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں اچکا ہے۔ اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا، جو پہلے تھا، میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے رکن اور سیاسی جماعت کےحقوق کو بھی دیکھنا ہے، انحراف پررکن کے خلاف کاروائی کا طریقہ کار آرٹیکل 63 اے میں موجود ہے، آرٹیکل 63 اے کے تحت انخراف پر اپیلیں عدالت عظمیٰ میں آئے گی۔

اشتر اوصاف نے کہا کہ صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینے سے اپیلوں کی کاروایی پر اثر پڑے گا، آرٹیکل 63ون کے انحراف سے رکن خودبخود ڈی سیٹ نہیں ہو جاتا، انحراف کرنے سے رکن کو شوکاز نوٹس سے وضاحت مانگی جاتی ہے، سربراہ وضاحت سے مطمئن نہ ہو تو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

جس پر جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کیا صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں اپنی سالانہ تقریر میں یہ معاملہ کبھی اٹھایا، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے کبھی کسی جماعت نے کوئی اقدام اٹھایا؟ کیا کسی سیاسی جماعت نے تریسٹھ اے کی تشریح یا ترمیم کے لیے کوئی اقدام اٹھایا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سینٹ میں ناکامی کے بعد سابق وزیراعظم نے ارکان کو کوئی ہدایات جاری نہیں کی، عمران خان نے ارکان سے اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے بیان جاری کیا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ارکان اپنے ضمیر کے مطابق مجھے اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ کریں، مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو گھر چلا جاؤں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ کی مرضی ہے وہ ہدایات جاری کریں یا نہ کریں تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بھی وہی وزیراعظم تھے، سابق وزیر اعظم نے اپنے پہلے موقف سے قلا بازی لی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم اپنی ہدایات میں تبدیلی نہیں کر سکتا؟ کیا وزیراعظم کے لیے اپنی ہدایات میں تبدیلی کی ممانعت ہے؟

جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے آئین کے تحت حلف لیا ہوتا ہے، وزیر اعظم اپنی بات سے پھر نہیں سکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید استفسار کیا کہ کیا انحراف کرنا بددیانتی نہیں ہے؟ کیا انحراف کرنا امانت میں خیانت نہیں ہوگا؟ کیا انخراف پر ڈی سیٹ ہونے کے بعد آرٹیکل 62( 1) ایف کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ کیا انحراف کرکے ڈالا گیا ووٹ شمار ہوگا۔ ان سوالات کے برائے راست جواب دیں۔

اشتراوصاف نے کہا عدالت کےسوال کا جواب نہ دے پاؤں لیکن گزارشات دےسکتا ہوں، عوام کے سامنے ارکان جوابدہ ہیں، قانون میں 7سال سزا لکھی ہے تو سزائےموت نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کیامنحرف کی سزا کے لیے قانون نہیں بنایاجاسکتا؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن پارلیمنٹ نےقانون نہیں بنایا ؟

جسٹس منیب اختر نے مزید استفسار کیا کس بنیاد پر کہتے ہیں آرٹیکل 63اے کا اطلاق نہیں ہوتا؟ تو اٹارنی جنرل نے بتایا آئین میں ترمیم تک آرٹیکل باسٹھ63 کااطلاق نہیں کرسکتے ، جس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ابھی تک آپ کہہ رہے ہیں قانون بن سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے جسٹس منیب اختر سے مکالمے میں کہا عدالت آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے، آئین پنالٹی فراہم کرتا ہے،ترمیم کےبغیراضافہ نہیں کیا جاسکتا،اٹارنی جنرل

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آئین کی فراہم پنالٹی کوقانون سے بڑھایا جاسکتا ہے۔

سماعت کے اختتام پر عدالت کی پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی سرزنش

ریفرنس کی سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کےوکیل بابر اعوان کی سخت الفاظ میں سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی نظر میں کوئی پارٹی چھوٹی بڑی نہیں سب برابر ہیں، عدالت بات کر رہی ہو تو مداخلت مت کریں ،بات سنیں ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا مت بتائیں عدالت کو کہ کونسی بڑی پارٹی سے ہیں ، عدالت نےکیس پارٹی سائز نہیں بلکہ آئین کی تشریح کے لیےسنا ہے، آپ کا موقف ہم نے 2مرتبہ سنا آپ کےنکات ہمیں سمجھ گئے ہیں، اب آپ دو منٹ میں کیا کہنا چاہتےہیں ہم 2منٹ اوربیٹھ جاتے ہیں۔

وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ میں 10منٹ لوں گا ، عدالت نےبابر اعوان کو10منٹ دیے جانے کی استدعا مسترد کر دی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس میں کہا آرٹیکل 63 اے ووٹنگ سے متعلق ارکان کو پابند بناتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ووٹ کے لیے پابند کیا جائے تو تحریک عدم اعتماد پر آرٹیکل 95غیر مؤثر ہو جائے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کیاہارس ٹریڈنگ کے بغیر عدم اعتماد ہو سکتی ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی ریمارکس دیے کہ ایک سیاسی جماعت اپنےبنائےوزیر اعظم کوہٹا کر نیالا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا آرٹیکل 63 اے کی پیروی سے آرٹیکل 95 کیسے غیر مؤثر ہوگا؟ ایسی صورت میں صدر مملکت وزیر اعظم کواعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتےہیں، جس پر اشتراوصاف کا کہنا تھا کہ صدراسی جماعت کا ہو، جس کا وزیراعظم ہے تو اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہے گا۔

عدالت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح سےمتعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، صدارتی ریفرنس پر شام 5 بجے فیصلہ سنایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں