site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ کا فیض آباد دھرنے کا ازخود نوٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیض آباد میں دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے، آئی جی اسلام آباد،آئی جی پنجاب اوراٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا،جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمار کس دیئے کہ دھرناآرٹیکل 14، 15 اور19 کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیض آباد میں دھرنے کا نوٹس لے لیا، جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع اور داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور آئی جی اسلام آباد،آئی جی پنجاب اوراٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا جبکہ پنجاب ،اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جرنلز کو بھی نوٹس جاری کئے۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ افسران سے جمعرات تک جواب طلب کرلیا ہے، سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ بتایا جائے عوام کے بنیادی حقوق کیلئے کیااقدامات کئے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ کون سااسلام ہےکہ راستے بندکردئیےجائیں، کون سی شریعت ایسی زبان کےاستعمال کی اجازت دیتی ہے، دھرنا آرٹیکل چودہ ، پندرہ اورانیس کی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ نے نوٹس وکیل کے التوا کی درخواست پر لیا۔

سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام کردار اور الفاظ کے ذریعے پھیلا، اسلام کو کبھی زوربازو پرنہیں پھیلایاگیا۔


مزید پڑھیں : اسلام آباد دھرنا: وزیر داخلہ کی عدالت سے مزید 2 دن کی مہلت طلب


خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد میں دھرنے کا سولہواں روز ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود حکومت دھرنے والوں کو نہ ہٹا سکی،  مذاکرات کےکئی دور ناکام ہوئے جبکہ علما و مشائخ کا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا۔

دھرنے کے شرکاء وزیر قانون کےاستعفٰی سے کم پر تیارنہیں جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بنا ثبوت کے وزیر سے استعفٰی نہیں لے سکتے۔ 

گذشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ نے وزرات داخلہ کوایک بارپھر دھرنا ختم کرانے کی ہدایت کی تھی، جس پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت سے اڑتالیس گھنٹے کا وقت لیاتھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top