حدیبیہ کیس: نیب کی بنائی گئی کہانی باربارتبدیل ہورہی ہے‘ سپریم کورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

حدیبیہ کیس: نیب کی بنائی گئی کہانی باربارتبدیل ہورہی ہے‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرزملز کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ آج ریفرنس میں تاخیرسے متعلق مطمئن کریں جبکہ کیس کی باقی تفصیلات دوسرے فریق کونوٹس کے بعد سنیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جےآئی ٹی نے حدیبیہ ریفرنس کھولنے کی سفارش کی، منی ٹریل حدیبیہ پیپرملز سےجڑی ہے کیس دوبارہ کھولنے کو کہا۔

عمران الحق نے کہا کہ جےآئی ٹی نے شریف خاندان پرچلنے والے کیسزکا جائزہ لیا تھا، جےآئی ٹی نےعدالتی حکم پرایف آئی اے نیب میں کیسزکا جائزہ لیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتاہے 1991 میں منی لانڈرنگ کا آغازہوا، ابتدائی طور پر سعید احمد اورمختارحسین کے اکاؤنٹ کھولے گئے۔

عمران الحق نے کہا کہ اسحاق ڈارکا 164 کا بیان ظاہرکرتا ہے کیسے منی لانڈرنگ کی گئی جبکہ اسحاق ڈارنے جعلی اکاؤنٹس کو اپنے بیان میں تسلیم کیا۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ ہم نے صرف اکثریتی فیصلہ پڑھنے کا کہا ہے جس پر نیب کے وکیل نےجواب دیا کہ پاناما فیصلےکے بعد نیب اجلاس میں اپیل کا فیصلہ کیا گیا۔

جسٹس مظہرعالم نے کہا کہ کیا حدیبیہ کے حوالے سے پاناما فیصلے میں ہدایات تھیں، نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ حدیبیہ کا ذکرپاناما فیصلے میں نہیں ہے۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ پانامافیصلے کو حدیبیہ کے ساتھ کیسے جوڑیں گے، جے آئی ٹی سفارشات پرکیاعدالت نےحدیبیہ بارے ہدایت کی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ نے فیصلہ تکنیکی بنیادوں پردیا، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ جےآئی ٹی نے رائے دی مجرمانہ عمل کیا ہے وہ بتا دیں۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ انکم ٹیکس کا معاملہ ہو، جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ عدالت کونیب آرڈیننس کے سیکشن 9 کا بتائیں۔

جسٹس قافی فائزعیسیٰ نے نیب کے وکیل کو ہدایت کی کہ بادی النظرکالفظ استعمال نہ کریں، بادی النظرکا لفظ نہیں بلکہ سیدھا مؤقف اختیارکریں۔

انہوں نے کیانیب کومزید تحقیقات کے لیے50 سال کا وقت لگ جائےگا، ہمارے ساتھ کھیل نا کھیلیں، حدیبیہ کیس فوجداری مقدمہ ہے۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ حدیبیہ کا اکاؤنٹ کون آپریٹ کررہا ہے، اکاؤنٹ اب آپریٹ نہیں ہورہا توماضی میں کرنے والے کا بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نےاب تک کیا تحقیقات کیں، جسٹس قاضی فائز نے ریماکس دیے کہ بینک کا ریکارڈ جھوٹ نہیں بولتا۔

عدالت عظمیٰ نے ریماکس دیے کہ بینک ملازمین کے بیانات ثانوی ثبوت ہیں تحریری ثبوت دیں، کیا نیب نے حدیبیہ پیپرز کے بارے میں انکم ٹیکس سے سوال کیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سوال نامہ بھیجا پرابھی ریکارڈ پرنہیں ہے، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہائی کورٹ نے 2013 میں کہا تھا نیب مذاق بنا رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ 2017 میں اب پھرہمیں مذاق والی بات کہنا پڑ رہی ہے، یاد رکھیں پاناماکیس آرٹیکل 184 کی شک 3 کے تحت سنایا گیا۔

نیب کے وکیل نے استدعا کی کہ اسحاق ڈارکا بیان پڑھنا چاہتا ہوں، اسحاق ڈارنے بطور وعدہ معاف گواہ بیان دیا۔

جسٹس قاضی فائز نے ریماکس دیے کہ پیسےادھرچلے گئے ادھرچلے گئے یہ کہانیاں ہیں، پراسیکیوشن نے چارج بتانا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آپ سےملزمان پرلگایا جانے والا الزام پوچھ رہے ہیں جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ فارن اکاؤنٹ منجمد کرنے سے ملزمان نے اپنا پیسہ نکلوا لیا تھا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب عمران الحق نے کہا کہ 164کے بیان میں اسحاق ڈارنے رقوم نکلوانے کا اعتراف کیا، جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ ایسی صورت میں متعلقہ دستاویزات سامنے ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صدیقہ کےاکاؤنٹ سے پیسے کس نے نکلوائے نام بتائیں، نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ 164 کے بیان میں اسحاق ڈارنے رقوم نکلوانے کا اعتراف کیا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ بیانات چھوڑیں شواہد بتائیں، جےآئی ٹی نے کچھ کیا نہ آپ نے کچھ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے قانونی لوازمات بھی نیب کوپورے کرنے تھے، کیا حدیبیہ کے ڈائریکٹرزکوتمام سوالات دیے گئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب نے کہا کہ ہم نےملزمان کوسوالنامہ بھیجا مگرجواب نہیں دیا گیا، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل13کوبھی ہم نے مدنظررکھنا ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ ممکن ہے یہ کیس بلیک منی یا انکم ٹیکس کا ہو، جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ آپ کومکمل منی ٹریل ثابت کرنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ سب باتیں مان لیں توپھربھی مجرمانہ عمل بتانا ہے، نیب سیکشن نائن اے کے تحت تو کوئی بات نہیں کررہا۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈارکا بیان بطورگواہ استعمال ہوسکتا ہے بطورثبوت نہیں، ہمارے صبرکا امتحان نہ لیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ ہمیں کسی کی ذاتی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں، بتائیں کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی بنائی گئی کہانی باربارتبدیل ہورہی ہے، اسحاق ڈارکا بیان کس قانون پردوسرے کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ کیا اسحاق ڈارکے بیان کو کاؤنٹرچیک کیا گیا، نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ اسحاق ڈارکے بیان کی تصدیق کی گئی تھی۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اسحاق ڈارکی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں اپنا کیس بتائیں، ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے اسحاق ڈارکا اعترافی بیان پڑھ کرسنایا۔

جسٹس قاضی فائز نے ریماکس دیے کہ اسحاق ڈارکے اعترافی بیان کےعلاوہ نیب کے پاس شواہد ہیں، اسحاق ڈارنے یہ سارا عمل کس فائدےکے لیے کیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب عمران الحق نے کہا کہ اسحاق ڈارکوشریف فیملی کے لیے کام کرنے کے بدلے سیاسی فائدہ ہوا۔

عدالت نے ریماکس دیے کہ اسحاق ڈارکا بیان عدالت یا چیئرمین نیب کے سامنے لیا جانا چاہیے تھا۔

جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ کیس سے متعلق ہمیں کوئی جلدی نہیں، منی ٹریل کے شواہد جےآئی ٹی سے پہلے اور بعد کےشواہد پردلائل دیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ 4 اکاونٹس تھے یا 36 ایشومشترک ہے، جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ تاخیر کو عبور کرلیا توممکن ہے بات میرٹس پرآجائے۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ قانون سب کے لیے ایک ہے جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ نے نیب کی کیس التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریماکس دیے کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ نے نیب سے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ اکاؤنٹس کھلوانےکے لیے کون گیا تھا؟ منیجرنے کسی کے کہنے پرکسی اورکے نام پراکاؤنٹس کیسے کھولے؟۔


سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرزملزکیس کی سماعت کل تک ملتوی


عدالت عظمیٰ نے نیب سے سوال کیا تھا کہ کیا بینک منیجرکوبھی ملزم بنایا گیا ہے، عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ کل سوالات کےجوابات پیش کریں۔

یاد رہے کہ تین روز قبل نیب کی جانب سے دو روز قبل سپریم کورٹ میں حدیبیہ کیس کے حتمی ریفرنس کے ساتھ ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 8 اے کی عبوری نقل پیش کی گئی تھی جس میں حدیبیہ ریفرنس کی نقل بھی شامل تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں