The news is by your side.

Advertisement

یونان میں امریکی طیارے کا ہائی جیکراور فوجی کا قاتل 32 سال بعد گرفتار

ایتھنز :یونان میں پولیس نے امریکا کی فضائی کمپنی ٹرانس ورلڈ ائیرلائنز (ٹی ڈبلیو اے)کے ایک مسافر طیارے کے اغوا اور امریکی بحریہ کے ایک غوطہ خورفوجی کے قتل میں ملوث لبنانی ہائی جیکر کوبتیس سال کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یونانی پولیس نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اس 65 سالہ مشتبہ ملزم کی جزیرے مائکونوس میں موجودگی کاسراغ لگایا تھا اور اس کو جمعرات کو حراست میں لیا گیا تھا،یونانی حکام کے مطابق اس لبنانی ہائی جیکر کے خلاف جرمنی نے یورپی وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھےاس پر 1985 میں ایک مسافر طیارے کے اغوا کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

یونانی میڈیا کی اطلاع کے مطابق یہ مشتبہ لبنانی 14جون 1985 کو ٹی ڈبلیو اے کی پرواز 847 کو اغوا اور ایک مسافر کے قتل کے واقعے میں ملوث تھایہ طیارہ قاہرہ سے سان ڈیاگو جارہا تھا اور اس نے ایتھنز ، روم ، بوسٹن اور لاس اینجلس میں رکنا تھااس کو ایتھنز سے اڑان بھرنے کے تھوڑی بعد اغوا کر لیا گیا تھااس طیارے کے اغوا کا یہ ڈراما سترہ روز تک جاری رہا تھا۔

ٹی ڈبلیو اے کے پائیلٹ جان ٹیسٹریک کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ طیارے کو بحر متوسط کے اوپر سے اڑاتے ہوئے بیروت لے جائےاس پر 153 مسافر اور عملہ کے ارکان سوار تھےاس کو پہلے بیروت کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا تھا اور پھر وہاں سے الجزائر لے جایا گیاپھر واپس بیروت لایا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس طرح طیارے نے بیروت اور الجزائر کے درمیان تین پھیرے لگائے تھے اور پھر اس کو حتمی طور پر بیروت کے ہوائی اڈے پر اتارلیا گیا تھا۔15جون 1985 کو بیروت کے ہوائی اڈے پر پہلے اسٹاپ کے دوران میں ہائی جیکروں نے امریکی بحریہ کے غوط خور رابرٹ اسٹیتھم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا اوران کے سرمیں قریب سے گولی مار قتل کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پھر اس تیئیس سالہ امریکی نوجوان کی لاش بیروت کے ہوائی اڈے کے رن وے پر پھینک دی تھی۔

وکی پیڈیا کے ایک مضمون کے مطابق ان اغوا کاروں کا تعلق لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تھااس لبنانی اغواکار کو کروز شپ کے مسافروں کے پاسپورٹس کی جانچ کے دوران میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جمعہ کو اس کو ایک پراسیکیوٹر کے روبرو پیش کیا گیا تھا اور اس نے اس کو جرمنی کے حوالے کرنے تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

یونانی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی کہ اس شخص کو ہائی جیکنگ کے مذکورہ واقعے کے دو سال بعد جرمنی میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس کو بیروت میں اغوا کیے گئے دو جرمن شہریوں کی بازیابی کے بدلے میں رہا کردیا گیا تھا۔ وہ تب سے مفرور تھا اور یونان میں کہیں روپوش تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں