The news is by your side.

Advertisement

بھڑوں کے جتھے نے اسکول کے بچوں پر حملہ کر دیا

برلن: جرمنی میں بھڑوں کے جتھے نے اچانک اسکول پر حملہ کر دیا، متاثرہ طلبہ کو فوری طور پر اسپتال میں ہنگامی امداد دینا پڑ گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی شہر کے ‘ایڈولف ریچوائن’ سیکنڈری اسکول میں تدریس کے دوران بھڑوں کے جتھے نے طلبہ پر حملہ کر دیا۔

بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی بریک ٹائم شروع ہوا تو بھڑوں کا جتھہ اسکول میں داخل ہو گیا اور بچوں پر حملہ کردیا، ڈنک کی تکلیف کے باعث 13 بچوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد دی گئی۔

محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میں آج تک اس طرح کا بھڑ کے کاٹنے کا واقعہ نہیں دیکھا جس میں بھڑ نے بری طرح متعدد بچوں کو ڈنک مارا ہو۔

اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بچے جن کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان تھیں انہیں معمولی نوعیت کے زخم آئے تھے اور طبی امداد کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا جب کہ ایک بچے کو شدید الرجی اور تکلیف کی شکایت پر ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔

یورپ اور امریکا میں عام طور پر بھڑ کے کاٹے کا علاج برف رکھتے ہوئے یا کوئی دوسری ٹھنڈی چیز رکھ کر کیا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود حالیہ دنوں کے دوران متعدد ایسی اشیاء متعارف کرائی جا چکی ہیں، جنہیں اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ضروری ہے کہ ڈنگ کو جسم سے جلد سے جلد نکال لیا جائے اور پھر متاثرہ حصے کو صابن سے اچھی طرح دھویا جائے۔ ڈاکٹرز برف یا کوئی دوسری ٹھنڈی چیز لگانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں