شام: جنگ کی تباہ کاریوں پر کمپیوٹر گیم تیار syria war game path out
The news is by your side.

Advertisement

شام: جنگ کی تباہ کاریوں پر کمپیوٹر گیم تیار

ویانا: شام کی خانہ جنگی سے متاثر ہوکر آسٹریانی دارالحکومت منتقل ہونے والے نوجوان اپنے ملک کی تباہ کاریوں کو ایک گیم میں سمونے کا خواہش مند ہے، جس کا ابتدائی ورژن تیار ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام کی خانہ جنگی سے متاثر ہوکر آسٹریانی دارالحکومت ویانا منتقل ہونے والے عبداللہ نامی شامی نوجوان نے اپنے ملک کی خانہ جنگی اور تباہ کاریوں کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک نیا انداز اختیار کیا۔

شام سے یورپ منتقل ہونے والے اکیس سالہ نوجوان کی خواہش ہے کہ اُس نے جن حالات اور خوف کی فضاء کو محسوس کیا اُن تجربات کو دنیا تک پہنچائے تاکہ بعد میں ایسے حالات کا سامنا کسی بھی شخص کو نہ کرنا پڑے۔

عبداللہ کی خواہش ہے کہ شام کی خانہ جنگی اور بربادی پر ایک گیم بنایا جائے جس میں تمام تر حالات و واقعات بیان کیے جائیں تاکہ سب کو حالات کا اچھی طرح سے علم ہو اور سب اس سے مستفید ہوسکیں۔

خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ’ویانا آنے کے بعد میری ملاقات ہوبمائیر نامی نوجوان سے ہوئی جو سافٹ انجینئر ہے اور گیمز بنانے میں مہارت رکھتا ہے، اس ملاقات میں مجھے خیال آیا کہ کیوں نا جن حالات کو میں نے دیکھا اُس پر گیم تشکیل دیا جائے تاکہ اس سے دنیا سبق حاصل کرسکے‘۔

انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹر گیم کی تیاری نفسیاتی سطح پر بہت مددگار ثابت ہوئی کیونکہ اپنی کہانی کو گیم کی صورت میں دیکھ کر میں اپنے آپ کو اور بھی زیادہ مضوط محسوس کرتا ہوں۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس گیم کا نام پاتھ آؤٹ رکھا گیا ہے جس کا ڈیمو ورژن (ابتدائی حصہ) تیار ہوچکا ہے تاہم امید ہے کہ ہم اس کو اکتوبر تک مکمل کرلیں گے، پہلے مرحلے میں یہ صرف کمپیوٹر پر کھیلا جاسکے گا۔

گیم بنانے والے انجینئر ہوبمائیر نے کہا کہ عبداللہ شام سے ہجرت کر کے جب کچھ عرصے کے لیے سالزبرگ منتقل ہوا تو اسی دوران اُس سے ملاقات ہوئے، شامی نوجوان کے پاس جنگ کی تباہ کاریوں کی تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں جس سے ہمیں بہت مدد ملی۔

ویڈیو دیکھیں

ہوبمائیر کا کہنا ہے کہ اس گیم کے زیادہ تر مناظر حقیقی فوٹیج پر مبنی ہیں اور اسے کھیلتے وقت آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ ایک سچی کہانی ہے جو ویڈیو کی صورت میں آپ کو دکھائی دے رہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں