The news is by your side.

Advertisement

شام میں 5روز سے بمباری جاری ، جاں بحق افراد کی تعداد400ہوگئی، 100 بچے بھی شامل

غوطہ : شام کے شہرغوطہ میں سرکاری فوج کی بمباری جاری ہے، پانچ روز میں بمباری سے جاں بحق افراد کی تعداد چار سو ہوگئی جبکہ ایک ہزارسے زائد زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد میں سو بچے بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شامی شہر غوطہ میں شامی فوج کی اندھا دھند بمباری نے بربادی کی نئی داستان رقم کردی ہے، خون میں نہائے پھول سے بچے عالمی برادری سے اپنا قصورپوچھ رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کے چیمپئن ممالک خاموش ہیں۔

پانچ روز میں جاری بمباری سے جاں بحق افراد کی تعداد 400 تک جاپہنچی جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد میں سو بچے بھی شامل ہیں۔

بچے،بوڑھے جوان ہر گلی،ہر گھر میں لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں نڈھال ہیں جبکہ شامی فورسز نے بچوں کے اسپتال سمیت مختلف اسپتالوں پر بم برسا کر انہیں ملبے کا ڈھیربنا دیا، شہرمیں دواؤں اورکھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوگئی ہے۔


مزید پڑھیں :  شام کے شہرغوطہ میں بمباری، 250 سے زائد افراد ہلاک


اقوام متحدہ کی عارضی جنگ بندی کی اپیل رائیگاں گئی، روس نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بیان میں کہا کہ شام میں فریقین کے درمیان سیزفائر معاہدہ طے نہیں ہوسکا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکڑوں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، انسانی حقوق گروپ آبزرویٹری کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں اسی علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ اب تک کا دوسرا بڑاحملہ ہے، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔


مزید پڑھیں :  شام میں بچوں کی ہلاکتیں، یونیسیف نے احتجاجاً خالی اعلامیہ جاری کردیا


یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے شام میں بمباری کے باعث بچوں کی مسلسل ہلاکتوں پر کہا تھا کہ کسی لغت میں وہ الفاظ نہیں جو اس دکھ کے اظہار کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اس لیے احتجاجاً ’’ خالی اعلامیہ ‘‘ جاری کرتے ہیں۔

یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتیں ہمارے مستقبل کا قتل ہیں جس سے دنیا آنے والی نسل کے بہترین ذہنوں سے محروم ہو جائے گی اور ان معصوم جانوں کے ضیاع پر والدین کو تسلی دینے اور انصاف کے حصول کی یقین دہانی کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں