The news is by your side.

Advertisement

شامی بچی کی جھنجھوڑ دینے والی تصویر

ادلب: جنگ سے متاثرہ ملک شام کی کمسن بچی نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ علاقے شام کی ایک کمسن اور خوفزدہ بچی کی تصویر شیئر ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ کیمرا مین جب کیمرے کے ہمراہ بچی کے سامنے پہنچا تو اُس نے رونا شروع کیا اور ہاتھ اٹھا دیے۔

ریڈکراس کے فوٹوگرافر نے بتایا کہ وہ کیمپوں میں محصور مہاجرین کی بستی کی تصاویر بنانے پہنچے تو وہاں موجود کمسن بچی ہاتھ میں موجود کیمرے کو اسلحہ سمجھی۔

بچی نے اپنی زبان میں فوٹوگرافر سے کچھ کہا اور پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر زاروقطار رونے لگی۔ فوٹو گرافر نے یہ تصویر انٹرنیٹ پر شیئر کی تو دیکھنے والوں کے دل دہل گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس بچی کی عمر چار سال ہے جو اپنے والدین کے ساتھ مہاجر کیمپ میں پناہ گزینوں والی زندگی بسر کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ زدہ ملک شام میں بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ آئیں

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ شام سے تعلق رکھنے والے کسی بچے کی تصویر پہلی بار سامنے آئی ہو بلکہ اس سے قبل متعدد بار ایسی تصاویر سامنے آچکی ہیں جنہوں نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

یاد رہے کہ چند سال قبل یونان کے ساحل پر پڑی ایلن کی لاش کی ایک تصویر نے پوری دنیا میں کہرام مچا دیا تھا، جس کے بعد یہ تصویر حکومت کی طرف سے کارروائی اور تارکین وطن کی مدد کرنے والے خیراتی اداروں کو عطیات دینے میں اضافے کا سبب بنی۔

یہ بھی پڑھیں: بمباری سے متاثرہ شامی بچے کی ویڈیو نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی

عبداللہ کرد اس سانحے کے بعد شام، ترکی سرحد پر واقع شہر کوبانی چلا گیا تھا جہاں اس نے دو سال قبل فائز نامی خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔ سوشل میڈیا پر45 سالہ عبداللہ کردی اپنے نوزائیدہ بیٹے کو گود میں لیے ہوئے ایک تصویر شیئر کی تھی، جس کے پیچھے سمندر میں ڈوب کر مرنے والے اس کے تین سالہ بیٹے ایلن کی تصویر بھی نمایاں تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں