The news is by your side.

Advertisement

پیلمائرا جسے زنوبیا نے عظیم الشان شہر بنایا

تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری صدی عیسوی میں رومن سلطنت یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکا تک پھیل گئی تھی۔ اس وسیع سلطنت کے اہم شہروں میں سے اس وقت کے صوبے شام کا ایک شہر پیلمائرا (تدمر) بھی شامل تھا۔اس شہر کا محلِ وقوع فوجی اعتبار سے بھی بہت اہمیت رکھتا تھا۔

اس شہر کو تیسری صدی میں دولت مند شہروں میں شمار کیا جانے لگا تھا اور اس کا مؤرخین کے مطابق یہ ملکہ زنوبیا کی حکمتِ علمی اور ذہانت سے ممکن ہوا تھا جنھیں جنگجو اور زبردست منصوبہ ساز مانا جاتا تھا۔

زنوبیا کی شادی پیلمائرا کے شہزادے سے ہوئی تھی جس کی موت کے بعد زنوبیا نے پیلمائرا کی حفاظت اور آزادی کا تحفظ کیا۔ کہتے ہیں اس ملکہ کے دور میں شہر کی خوب صورتی کو گویا چار چاند لگ گئے تھے۔ یہ اپنی پُرشکوہ عمارات، فن و ثقافت اور اپنے باغیچوں کے لیے مشہور ہوا۔

موجودہ دور میں‌ پیلمائرا جو کہ اب کھنڈرات ہیں، شام کے صوبہ حمس میں شامل ہے اور عالمی ورثہ شمار کیا جاتا ہے، لیکن چند برسوں کے دوران شدت پسندوں اور جنگجوؤں کے حملے اور فوجی کارروائیوں کے سبب اسے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ یوں تو صدیوں پہلے بھی اس شہر پر حملے ہوئے اور یہاں سے نوادرات اور قیمتی اشیا کو لوٹا گیا، لیکن جدید دور میں شام کی خانہ جنگی میں اس شہر پر قبضہ کرنے والے گروہوں نے عمارتوں کے کھنڈرات اور قدیم آثار کو شدید نقصان پہنچایا۔

اس شہر میں متعدد مقامات پر تاریخی مجسمے اور عمارتیں موجود تھیں جن کی باقاعدہ دیکھ بھال اور ضرورت کے مطابق مرمت کی جاتی رہی ہے، لیکن شدّت پسندوں نے انھیں بارود سے اڑا دیا۔

تاریخ کے اس عظیم الشان شہر کو سیّاحتی اعتبار سے بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ دنیا بھر سے سیّاح اس شہر کا رخ کرتے تھے اور یہ حکومت کے لیے نفع بخش تھا جب کہ وہاں کے باسیوں کی معاش اور گزر بسر کا سبب بھی یہی شہر اور اس کے آثار تھے۔ اسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں