site
stats
اے آر وائی خصوصی

یہ پہلا مرحلہ تھا اور اگلا فیز اس سے زیادہ متحرک اور نتیجہ خیز ہوگا، طاہرالقادری

طاہر القادری اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کر رہے تھے

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ کل کے جلسے کے لیے ہم نے صرف پنجاب سے کارکنان کو بلایا تھا اس لیے شرکاء کی تعداد ہماری توقعات کے مطابق تھی، یہ ہماری تحریک کا پہلا فیز تھا جس میں ہدف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا اب اگلا مرحلہ بہت بھرپور اور جاندار ہو گا۔

ان خیالات کا انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ میں نے مختلف الخیال سیاسی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم اور ایک جلسے میں یکجا کردیا جو کہ سب سے مشکل کام تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری تحریک کا پہلا فیز تھا ابھی دو مرحلے باقی ہیں اور اس مرحلے کی کامیابی الگ الگ نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو کہ میرے لیے بہت مشکل کام تھا تاہم اللہ کے فضل سے یہ معرکہ بھی سر ہوا اور اگلا مرحلہ اور بھی بھرپور طریقے کا ہوگا۔

خالی کرسیوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ جلسے میں تمام کرسیاں خالی نہیں تھیں چوں کہ مخالفین کی عادت ہے کہ ہرچیزکواپنی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مخالفین چیزوں کو منفی نگاہ سے ہی دیکھتی ہے ویسے بھی مخالفین کا بات کا بتنگڑ بنانا ہی ہوتا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے بہت آخر میں پتہ چلا کہ ایم کیو ایم کا وفد بھی آیا تھا تاہم وہ شیخ رشید کی تقریر کے بعد آئے تھے اگر کچھ دیر قبل آتے تو انہیں بھی تقریر کا موقع دیا جاتا، میں ایم کیو ایم پاکستان کے قائدین سے دوبارہ بات بھی کروں گا۔

عمران خان کی جانب سے جلسہ عام میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب عمران خان خود دے سکتے ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے بیانات کے بعد لائن کراس کرنے کے لیے رہ ہی کیا جاتا ہے اور ویسے بھی عوامی جلسوں میں سیاسی جنگ کا سا سماں ہوتا ہے اور بہت سی ایسی باتیں بھی کہہ دی جاتی ہیں جس کا بادعی النظر میں معنی کچھ اور ہوتا ہے۔

طاہرالقادری نے کہا کہ شیخ رشید کی تقریروں کے دوران باکسنگ اور کشتی بھی ہوتی ہے اور ان کا انداز بھی خالص عوامی ہیں اس لیے شدت جذبات میں بات کہیں سے کہیں جا نکلتی ہے، وہ من کے سچے ہیں اس لیے جو دل میں ہوتا ہے وہی بات زبان پر لاتے ہیں اور یہی رنگ کل جلسے میں بھی غالب تھا اس لیے میں نے انہیں مین آف دی میچ قرار دیا تھا۔

پارلیمنٹ کی حاکمیت اور اہمیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے اس پارلیمنٹ پرتعجب ہے جس کے فلور پر کھڑا ہو کر وزیراعظم جھوٹ بولے، مجھے اس پارلیمنٹ پرحیرت ہوتی ہے جس کے فلور پر اسپیکرغلط بیانی کرے اور جہاں ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی پر اسپیکرجھوٹ بولےاس پرحیرت ہے اور قطری خط کے حوالے سے فلور پر جھوٹ بولا جائے تو ایسی پارلیمنٹ پر مجھے حیرت ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو ہر صورت میں انصاف دلوائیں گے اور شہداء کے لہو کا تقدس سب بے افضل ہے اور اگر لواحقین کو انصاف نہیں ملا تو لوگوں کا اداروں سے اعتبار اُٹھ گیا تھا اس لیے پارلیمنٹ کو اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے لواحقین کو انصاف دلوایا جائے جو میں ہر صورت میں دلوا کر دم لوں گا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top