حکومتی وکلاء نے عدالت میں مظلوموں کے خلاف صف بندی کی، طاہرالقادری tahir-ul-qadri
The news is by your side.

Advertisement

حکومتی وکلاء نے عدالت میں مظلوموں کے خلاف صف بندی کی، طاہرالقادری

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا ہے کہ حکومتی وکلاء نے آج عدالت میں مظلوموں کے خلاف صف بندی کی اور جج سے متعلق رویہ توہین آمیز رویہ اپنایا تھا.

طاہرالقادری ٹیلی فون پر مرکزی عہدیداروں سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کی تحقیقاتی رپورٹ کو عدالتی حکم کے باوجود شائع کرنے کے بجائے پنجاب حکومت مختلف ہتھکنڈے اپنا کر رپورٹ کے اصل مندرجات کو چھپانا چاہتے ہیں جس کے لیے آج مسلم لیگ (ن) کے وکلاء نے عدالت میں وکلا گردی کی نئی مثال قائم کی.

انہوں نے کہا کہ شریف برادران خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں اور صرف پسندیدہ فیصلےسننے کےعادی ہیں چنانچہ ہر طرح کے ہتھکنڈے آزما کر عوام کو حقائق سے دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اپنے خلاف آنے والے ممکنہ فیصلے کو روک سکیں اور مظلوموں کو ان کے حقِ انصاف سے محروم رکھیں.


 سانحہ ماڈل ٹاؤن: تحقیقاتی رپورٹ پر حکم امتناع کی حکومتی استدعا مسترد


علامہ طاہر القادری نے کہا کہ باقرنجفی کمیشن رپورٹ کیلئے ہم نے ہر قسم کا دباؤ برداشت کرتے ہوئے 3 سال تک جابر حکومت کے خلاف مقدمہ لڑا اور کبھی شکوہ تک زبان پر نہیں لائے لیکن جب تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوگئی تو اسے پبلک نہیں کیا گیا جس کے عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالتی حکم کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتا ہے جاتی امرا سے نہیں لیکن وہ عدالت میں مقتول لوگوں کے بجائے قاتل حکمرانوں کو تحفظ دے رہے ہیں اور مظلوموں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ہم اپنے حق انصاف سے پیچھے نہئیں ہٹیں گے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا دلوا کر دم لیں گے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں